مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 289 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 289

مضامین بشیر جلد چہارم 289 عرصہ گویا بچپن اور نو جوانی کا زمانہ ہے۔مگر باوجود اس کے ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہاتھوں جو ترقی اس اٹھتی ہوئی جوانی میں اسلام نے کر لی تھی وہ ایسی حیرت انگیز تھی کہ اب چودہ سوسال گزرنے کے بعد بھی جب اُس زمانہ کی تاریخ کے اوراق کی طرف نظر اٹھتی ہے تو آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں اور اس کے مقابل پر جماعت احمدیہ کی موجودہ ترقی وسیع اور غیر معمولی ہونے کے باوجود پیچ نظر آنے لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ کاش جماعت احمدیہ کو پرواز کے پر مل جائیں تو وہ اُڑ کر اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے۔لیکن خدا کا قانون اٹل ہے۔خدا نے جلالی نبیوں اور جمالی نبیوں کے سلسلوں کی ترقی کے لئے الگ الگ طریق مقرر کر رکھا ہے۔چنانچہ دیکھ لو کہ سورج اپنے پورے قرص کے ساتھ اکٹھا طلوع کرتا ہے گو شروع میں اس کی روشنی بھی تھوڑی دیر کے لئے دھیمی ہوتی ہے مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے اپنی تیز شعاعوں کے ساتھ ساری دنیا کو ڈھانپ لیتا ہے لیکن اس کے مقابل پر چاند جو جمالی نوعیت کا سیارہ ہے ایک باریک اور منحنی سی کمز ور شاخ کے طور پر نکلتا ہے اور کئی دنوں میں آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔بس یہی جمال و جلال کے سلسلوں میں فرق ہے جس کی طرف قرآن مجید نے موسوی اور عیسوی سلسلوں کی مثال بیان کر کے اشارہ کیا ہے۔مگر دوستو اور عزیز و ! اس مثال سے تسلی پا کر اپنے قدموں میں سستی نہ پیدا ہو نے دو کیونکہ ایک اور فرق بھی ہے جو ہمیشہ جماعت احمدیہ کے مدنظر رہنا چاہئے۔یہ فرق موسوی اور محمدی سلسلوں کا فرق ہے یعنی جہاں حضرت عیسی موسوی سلسلہ کے نبی تھے اور موسوی شریعت کے احیاء کے لئے آئے تھے وہاں خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کا مقدس بانی محمدی سلسلہ کا مسیح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اسلام کے احیاء اور اسلام کی خدمت کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔پس فرق ظاہر ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنے ایک شعر میں اس فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پر میرا سب مدار اس سے ظاہر ہے کہ جہاں حضرت مسیح موعود کو حضرت عیسی علیہ السلام سے ایک خاص مشابہت حاصل ہے وہاں نائب رسول اور مسیح محمدی ہونے کے لحاظ سے ایک نمایاں مغامرت بھی ہے۔اور ہمیں اسی مغایرت پر اپنی کوششوں اور اپنی امیدوں کی بنیاد رکھنی چاہئے۔گویا جمالی سلسلہ ہونے کے لحاظ سے ہماری ترقی چاند اور آہستہ بڑھنے والے پودے کا رنگ رکھتی ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے علم بردار ہونے کے لحاظ سے ہمیں اپنے اندر کچھ سورج کی شعاعوں جیسی تیزی بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔