مضامین بشیر (جلد 4) — Page 286
مضامین بشیر جلد چهارم 286 اس زمانہ میں ایک روز حاجی غلام احمد صاحب کر یام ضلع جالندھر اور میاں امام الدین صاحب، مولوی ابو العطاء صاحب کو مدرسہ میں داخل کرانے کے لئے آئے۔اس وقت میں مدر سے کے کچے کمروں میں سے ایک کمرہ میں بیٹھا تھا۔حاجی صاحب نے انہیں مدرسہ میں داخل کرنے کی سفارش کی اور میں نے انہیں داخل کر لیا۔میں جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کیونکہ وہ پھل خدا کے فضل سے شیریں ثابت ہوا اور آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو خدمت دین کی توفیق دی۔میں نے کچے کمرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ ہر زمانے کا قشر الگ ہوتا ہے۔اُس زمانے کے لحاظ سے کچے کمرے ہی قشر کی حیثیت رکھتے تھے لیکن آج کل کے حالات کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اچھی عمارت بھی ہو نیز ایک اعلیٰ درجہ کی لائبریری کا بھی اس میں انتظام ہو اور اسی طرح تمام دوسرا سامان اور ضرورت کی چیزیں بھی مہیا کی جائیں۔پھر یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ احباب بچوں کو جامعہ میں تعلیم دلوانے کے لئے یہاں بھجوائیں۔جب تک احباب ہر طبقہ کے ذہین اور ہونہار طلباء نہیں بھجوائیں گے خدمت دین کا کام خاطر خواہ طریق پر انجام نہیں پا سکے گا۔میرا اپنا بچہ بھی واقف زندگی ہے اور آج کل افریقہ میں سلسلہ کی طرف سے متعین ہے اور میں اس پر خوش ہوں کہ وہ دین کی خدمت کر رہا ہے۔پس میں احباب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عمارت کی جلد از جلد تکمیل اور ایک اعلیٰ درجہ کی لائبریری قائم کرنے کے لئے دل کھول کر چندہ بھی دیں اور پھر ہر طبقہ کے ہونہار اور ذہین بچوں کو تعلیم کے لئے جامعہ احمدیہ میں بھیجیں اس ضمن میں محترم میاں صاحب نے ہر طرح سے مکمل لائبریری کے قیام پر خاص زور دیا اور فرمایا کہ: جب تک کسی تعلیمی ادارے کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی لائبریری نہ ہو اس وقت تک اس ادارے کو کامیابی کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا اور تعلیم وتدریس کے خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہو سکتے“ آپ نے تدریس کے سلسلہ میں پرانے زمانے کے ایک نہایت مفید طریق کی طرف بھی توجہ دلائی اور فرمایا: پہلے جب اساتذہ باہر سفر پر جاتے تھے تو ان کے ساتھ بعض شاگردوں کو بھی بھیج دیا جا تا تھا اور وہ سفر میں بھی انہیں درس دیتے رہتے تھے۔یہ طریق بہت مفید تھا۔اس طرح اساتذہ کے سفر پر جانے سے طلبہ کی تعلیم میں حرج واقع نہیں ہوتا تھا بلکہ اس طرح وہ اساتذہ کے ساتھ ہر وقت رہنے کی وجہ سے وہ کچھ سیکھ لیتے تھے جو مدرسہ کے محدود اوقات میں ان کے لئے سیکھنا ممکن نہ ہوتا تھا آخر میں محترم میاں صاحب نے اس توقع کا ایک دفعہ پھر اظہار کرتے ہوئے کہ احباب جامعہ احمدیہ کی