مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 282 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 282

مضامین بشیر جلد چهارم 282 یعنی جو شخص جماعت سے الگ ہوتا ہے اور جماعت میں تفرقہ پیدا کرتا ہے وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنانے کے لئے تیار ہو جائے۔خدا رحم کرے ہمارے کتنے بھائیوں نے آج کل چھوٹے چھوٹے اختلافوں کی وجہ سے آگ میں ٹھکانا بنانے کے لئے تیاری کر رکھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر تمہارے خیال میں تم پر کوئی ظلم کیا جائے اور تمہارے ساتھ بے انصافی کا طریق برتا جائے اور تمہارا حق مارا جائے تو پھر تم جماعت کے اتحاد کو ہرگز نہ توڑو۔اور یا تو صبر سے کام لو اور یا ذمہ وار لوگوں کے سامنے اپنا معاملہ پیش کر کے فیصلہ کرالو اور پھر جو فیصلہ بھی ہوا سے شرح صدر کے ساتھ قبول کرو۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ تمام انصار اللہ جو اس وقت ربوہ کے مقدس مقام میں جمع ہیں وہ یہاں سے یہ عہد کر کے اٹھیں گے کہ آئندہ جماعت میں اتحاد اور اتفاق کے طریق پر قائم رہتے ہوئے تفرقہ کے رستہ سے اس طرح بچیں گے گویا وہ ایک زہریلا سانپ ہے جس کے ڈسے کا کوئی علاج نہیں۔مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ گزشتہ ایام میں شیخوپورہ کے مقام پر جماعت کے عہدیداروں کا ایک تربیتی اجتماع ہوا تھا جو بہت کامیاب رہا یہ ایک نیا خیال تھا۔اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان دوستوں کو جزائے خیر دے جن کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور دوسرے دوستوں کو بھی توفیق دے کہ وہ گا ہے گا ہے اپنے علاقہ میں ایسے اجتماع منعقد کر کے جماعت کے عہدیداروں میں کام کی نئی زندگی اور پستی اور بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔مومنوں کا آپس میں مل کر بیٹھنا اور تبادلہ خیالات کرنا اور جماعتی ترقی کے نئے مفید تجاویز سوچنا بڑا بابرکت کام ہے اور اسے جتنا بھی وسیع کیا جائے کم ہے۔میں انصار اللہ کی خدمت میں یہ تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے جو دوست علمی مذاق رکھتے ہوں یا علمی مذاق پیدا کر سکیں انہیں ضرور اسلام اور احمدیت کی تائید میں تحقیقی اور علمی مضامین لکھ کر جہاد فی سبیل اللہ کا ثواب کمانا چاہئے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے الفضل میں اس کے متعلق ایک مفصل مضمون لکھا تھا اور دوستوں کو تحریک کی تھی کہ وہ اس طرف توجہ دیں جس پر بعض نے تو کسی حد تک توجہ دی ہے مگر اکثر دوستوں نے توجہ نہیں دی۔ہمارے دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے ”سلطان القلم کے غیر معمولی لقب سے نوازا ہے۔اس میں یہی اشارہ ہے کہ آپ کے متبعین کو بھی قلمی جہاد کی طرف توجہ دینی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ نے ایمان و اخلاص کے ساتھ تحریر وتقریر میں ملکہ عطا کیا ہو اور اسے اس میدان میں اپنی برکت سے نوازا ہو وہ اس زمانہ میں خدمت دین کے لحاظ سے گویا ایک کامل مجاہد