مضامین بشیر (جلد 4) — Page 281
مضامین بشیر جلد چہارم 281 کریں اور اعلیٰ اخلاق سکھائیں۔دوسرے نمبر پر یہ کام احمد یہ درس گاہوں کے اساتذہ کا ہے جو اپنے اپنے مدارس میں بچوں کے لئے والدین کے قائمقام ہوتے ہیں۔اور تیسرے نمبر پر یہ کام مرکزی نگرانی کے ماتحت مقامی عہدیداروں کا ہے کہ وہ اپنے علاقہ کے احمدیوں اور خصوصاً نوجوان احمدیوں پر اس طرح نگاہ رکھیں جس طرح کہ ایک ہوشیار گڈریا اپنی بھیڑ بکریوں کی دیکھ بھال کرتا ہے اور کوئی فردان کی نظر سے باہر نہ رہے۔یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ بڑی بھاری ذمہ داری کا کام ہے کیونکہ اسی پر ظاہری اسباب کے لحاظ سے جماعت کی آئندہ ترقی اور اگلی نسلوں کی حفاظت کا دار ومدار ہے۔تمام احمدی بلا استثناء ایسے ہونے چاہئیں کہ جن مین یہ تین باتیں لازماً پائی جائیں۔اول نمازوں کی پابندی اور نمازیں بھی ایسی جو دعاؤں سے معمور ہوں اور صرف کھوکھلی ہڈی کی طرح نہ ہوں جو گودے سے خالی ہوتی ہے۔دوسرے خلافت اور مرکز سے مخلصانہ وابستگی جو گویا ہمارے لئے وہ زبر دست کھونٹا ہے جس کے ساتھ باندھے جانے کے بعد ہم ادھر اُدھر بھٹکنے سے بچ سکتے ہیں۔اور تیسرے جماعتی کاموں میں دلچسپی اور ضروری جماعتی چندوں میں حصہ لینا۔جو شخص احمدی کہلاتا ہے اور نمازوں اور دعاؤں میں سُست ہے۔احمدی کہلاتا ہے اور اسے خلافت اور مرکز کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں۔احمدی کہلاتا ہے اور خدائی سلسلہ کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور نہ ان کاموں کو چلانے کے لئے کوئی مالی قربانی کرتا ہے۔وہ ہرگز ہرگز سچا احمدی نہیں سمجھا جا سکتا۔میری یہ بات لکھ لو کہ ایسے شخص کا نام آسمان پر کبھی بھی مخلص احمدیوں کی فہرست میں درج نہیں ہوگا۔پس اے انصار اللہ ! میری اس نصیحت کو غور سے سنو اور مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہو کہ ان تین نیکیوں کے بغیر کوئی کچی احمدیت نہیں۔یعنی نمازوں کی پابندی اور خلافت اور مرکز کے ساتھ مخلصانہ وابستگی اور جماعتی کاموں میں دلچسپی اور ان کو چلانے کے لئے ضروری چندوں میں حصہ لینا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص اخلاص پر قائم ہوتے ہوئے یہ تین نیکیاں اپنے اندر پیدا کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی بہت سی دوسری کمزوریوں کو معاف فرمادے گا۔پھر بیرونی جماعتوں کی رپورٹوں سے پتہ لگتا ہے کہ بعض جگہ مقامی جماعتوں میں اتحاد اور اتفاق کی کمی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کر کے انشقاق کا بیج بو دیا جاتا ہے اور لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ مومنوں کو بنیان مرصوص بن کر رہنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں بڑے غصہ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ: مَنْ شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ