مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 277 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 277

مضامین بشیر جلد چهارم سے بھی ملا ئیں۔277 سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ماں باپ کا یہ فرض ہے کہ ہمیشہ اپنے بچوں کی دینی اور دنیوی بہتری کے لئے خدا کے حضور در ددل سے دعائیں کرتے رہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ سب احمدی والدین ضرور ایسا کرتے ہوں گے لیکن جس بات پر میں اس جگہ خاص زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ احمدی والدین کو چاہئے کہ اپنی دعاؤں میں صرف دنیا کی ترقی کو ہی مد نظر نہ رکھیں بلکہ لازماً اپنے بچوں کی دینی اور روحانی ترقی کی دعا کو بھی اپنی روزمرہ کی دعاؤں میں شامل کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں کہ ماں باپ کی دعا بچوں کے حق میں خاص طور پر زیادہ قبول ہوتی ہے اور وہ والدین بڑے بدقسمت ہیں جو اپنے بچوں کو ان دعاؤں سے محروم رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو اور ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق دے تا کہ جماعت کی آئندہ نسلیں ہمیں بدنام کرنے والی نہ بنیں بلکہ اسلام اور احمدیت کے نام کو روشن کرنے والی بنیں اور ہم خدا کے حضور سرخرو ہو کر پہنچیں۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ محررہ 18 نومبر 1961ء) (ماہنامہ مصباح ربوہ دسمبر ، جنوری 62-1961ء) مجلس انصار اللہ کے سالانہ اجتماع پر بصیرت افروز افتتاحی خطاب برادران کرام! انصار اللہ کی ہمہ گیر اصطلاح اور اس کے اہم تقاضے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں انصار اللہ کے اجتماع کا افتتاح کروں۔کسی دینی اور علمی اور تربیتی اجتماع میں شرکت کرنا تو بہر حال بڑی خوشی اور برکت کا موجب ہے اور میں اپنے لئے اسے اخروی سعادت کا باعث سمجھتا ہوں لیکن میں چند دن سے بلڈ پریشر کی تکلیف میں مبتلا ہوں اور طبیعت میں یکسوئی نہیں پاتا۔علاوہ ازیں مجھے انصار اللہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ ہی بہت حجاب رہتا ہے ایک تو اس لئے کہ میں خود بھی انصار اللہ میں شامل ہوں اور اس ذمہ داری کے لحاظ سے اپنی کمزوریوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور دوسرے اس لئے کہ انصار اللہ کا لفظ ایسے بلند و بالا مفہوم کا حامل ہے کہ ان کی حقیقی