مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 257

مضامین بشیر جلد چهارم احمدیت کا بطل جلیل حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم و مغفور 257 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ کا الہام ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصهرَ وَالنَّسَب۔یعنی شکر گزار ہوا اپنے خدا کا جس نے سرال اور باپ دادا دونوں کی طرف سے تیرا رشتہ اچھی نسل کے ساتھ جوڑا ہے۔حضرت میر محمداسحاق صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود کے اسی صہری رشتے کی ایک مقدس کڑی تھے اور ہندوستان کے مشہور صوفی منش بزرگ حضرت خواجہ میر درد کی نسل میں سے تھے۔وہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ کے حقیقی بھائی تھے اور رضاعت کے رشتے میں حضرت اماں جان کے فرزند بھی تھے۔اس طرح ان کے ساتھ ہمارا دوہرا رشتہ تھا۔یعنی ایک جہت سے وہ ماموں تھے اور دوسری جہت سے بھائی بھی تھے۔ہمارے نانا جان مرحوم حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ غیر معمولی امتیاز بخشا کہ ان کی ایک لڑکی اور دولڑ کے ( اور یہی ان کی گل اولاد تھی ) آسمانِ ہدایت پرستارہ بن کر چمکے اور جس میدان میں قدم رکھا اس میں کمال پیدا کیا۔ہمارے بڑے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم گو بظاہر دنیوی تعلیم کی طرف ڈالے گئے اور بالآخر نہایت قابل سول سرجن بن کر سروس سے ریٹائر ہوئے مگر ان کا بھی اصل میدان عمل دین تھا۔انہوں نے تصوف میں بہت بڑا درجہ حاصل کیا اور اپنے پیچھے نظم ونثر کا ایسا پُر معارف کلام چھوڑا جو جماعت کی رگوں میں مدتوں تک زندگی کا تازہ اور گرم خون پیدا کرتا رہے گا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کے تصوف کے مقابل پر ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے دین کا ظاہری علم حاصل کیا اور اس کو کمال تک پہنچا دیا۔حتی کہ ان کے اس دینی کمال اور دینی خدمات کی وجہ سے ہمارے بڑے ماموں صاحب کے دل میں ان کی اتنی عزت تھی کہ جب حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے اپنی مرض الموت میں ایک قے کی اور اُس قے کے چھینٹے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے کوٹ پر بھی پڑے تو انہوں نے ان چھینٹوں کو دھونے سے انکار کر دیا اور اپنے اس کوٹ کو اپنے چھوٹے بھائی کے تبرک کے طور پر اپنے پاس محفوظ کر لیا۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی عقل نہایت درجہ تیز اور دل و دماغ کی طاقتیں انتہائی طور پر روشن