مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 256 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 256

مضامین بشیر جلد چهارم 256 دراصل ہمارے ذمہ دو کام ہیں ایک تبلیغ اور دوسرے تربیت۔یہ دونوں کام ایسے ہیں جیسے کہ رتھ کے دو پیسے ہوتے ہیں جن کے بغیر رتھ کا چلنا محال ہے۔البتہ جب کسی وجہ سے کسی جگہ تبلیغ کے کام میں کوئی وقتی روک پیدا ہو جائے تو اس وقت ایک تو تربیت کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کر دینی چاہئے تا کہ جماعت میں ستی اور بیکاری کے آثار نہ پیدا ہوں اور دوسرے بالواسطہ تبلیغ کے رنگ میں ان غلط فہمیوں کے دور کر نے میں لگ جاتا چاہئے جو عوام کی طرف سے ہمارے متعلق ہمیشہ پھیلائی جاتی ہیں۔میں یقین کرتا ہوں کہ اگر ہمارے دوست ان دو تد بیروں کو اختیار کریں گے تو صداقت کی ترقی اور اشاعت میں انشاء اللہ کبھی روک پیدا نہیں ہوگی اور محمد یوں کا قدم ایک بلند مینار کی طرف اٹھتا چلا جائے گا اور یہی اس وقت خدائے عرش کی اہل تقدیر ہے۔(محرره 17 اگست 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 19 ستمبر 1961ء) نواب زادہ میاں عبداللہ خان صاحب مرحوم اخویم نواب زادہ میاں عبداللہ خان صاحب مرحوم کی وفات پر کثیر التعداد بھائیوں اور بہنوں نے ہمدردی کے تار اور خط بھجوائے ہیں اور کئی ادارہ جات کی طرف سے بھی ہمدردی کے ریزولیوشن پہنچے ہیں۔میں ان سب کا دلی شکر یہ ادا کرتا ہوں اور جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ کہتا ہوں۔میاں عبداللہ خان صاحب ہمارے نسبتی بھائی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کا شرف رکھتے تھے۔اس تعلق کی وجہ سے ان کے ساتھ پچاس سال کے طویل عرصہ میں قریب ترین واسطہ رہا اور میں نے انہیں ہمیشہ بہت شریف، بہت متواضع ، بہت نیک اور بہت دیندار پایا۔نماز کے بڑی سختی کے ساتھ پابند تھے اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتے تھے اور اسلام اور احمدیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کی زوجہ محترمہ (ہماری چھوٹی ہمشیرہ) اور نو بچوں کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو اور انہیں اپنے مقدس نانا اور دادا اور باپ کی نیک صفات کا وارث بناۓ۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ 24 ستمبر 1961ء) روزنامه الفضل ربوه 26 ستمبر 1961ء)