مضامین بشیر (جلد 4) — Page 247
مضامین بشیر جلد چهارم 247 قادیانی) پر تبصرہ کرتے ہوئے رسالہ کے مؤلف مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان کے نام حسب ذیل مکتوب ارسال فرمایا جو افادہ احباب کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔(ادارہ) مکرمی و محترمی ملک صلاح الدین صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اصحاب احمد جلد نہم جس میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مرحوم کے حالات اور مشاہدات اور روایات درج ہیں آپ کی طرف سے موصول ہوئی۔جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْراً۔میں نے اس کا کافی حصہ پڑھ لیا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور حضرت بھائی صاحب کے درجات کو بلند فرمائے۔یہ کتاب خدا کے فضل سے نہایت دلچسپ اور نہایت ایمان افروز ہے۔بعض مقامات پر تو میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا میں اس کتاب کو پڑھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں پہنچ گیا ہوں۔کئی واقعات ایسے نظر سے گزرے جو میرے چشم دید اور گوش شنید تھے لیکن میں انہیں بھول گیا تھا یا میری یاد مدھم پڑ گئی تھی۔اس کتاب کو پڑھنے سے بہت سی دلکش اور روح پرور یادیں تازہ ہوگئیں۔حضرت بھائی صاحب کو حضرت مسیح موعود کی قریب ترین صحبت میں رہنے کا لمبا عرصہ موقع ملا تھا۔انہوں نے ہر واقعہ کو غور سے دیکھا اور ہر بات کوغور سے سنا اور اسے اپنے ذہن میں محفوظ رکھا اور پھر نہایت دلکش رنگ میں اسے بیان کیا ہے۔فَجَزَاهُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء - اس جگہ اس بات کے بیان کرنے میں حرج نہیں کہ اصحاب احمد کی تین جلدیں مجھے خاص طور پر بہت پسند آئی ہیں۔ایک وہ جلد جو حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے حالات اور روایات پر مشتمل ہے اور دوسرے وہ جلد جو حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے مشاہدات اور روایات پر مشتمل ہے اور تیسرے یہ جلد جو حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے مشاہدات اور روایات پر مشتمل ہے۔۔میں جماعت کے دوستوں اور خصوصاً نوجوان عزیزوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اصحاب احمد کی جملہ جلد میں خرید کر ان کا مطالعہ کریں اور اپنے ایمانوں کو تازہ کریں اور خصوصیت سے مذکورہ بالا تین جلدوں کا تو ضرور مطالعہ کریں اس سے انشاء اللہ ان کو ایک نئی روشنی حاصل ہوگی۔( محررہ 12 جولائی 1961 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 5 ستمبر 1961ء)