مضامین بشیر (جلد 4) — Page 222
مضامین بشیر جلد چہارم کی طرف سے بھی قربانی دی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ : 222 عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَيْشٍ۔۔۔ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلُ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ وَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - ( صحیح مسلم کتاب الاضاحي باب استحباب الضحية وذبحها مباشره بلاتو کيل والتسمية ) یعنی حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک عید کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک دنبہ منگوایا۔پھر اسے خود اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور ذبح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں یہ دنبہ خدا کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور پھر دعا فرمائی کہ اے میرے آسمانی آقا! تو اس قربانی کو محمد کی طرف سے اور محمد کی آل کی طرف سے اور محمد کی امت کی طرف سے قبول فرما۔کیا ان واضح اور قطعی روایتوں کے ہوتے ہوئے جو اس جگہ صرف نمونہ کے طور پر درج کی گئی ہیں کوئی سچا اور واقف کار مسلمان اس بات کے کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ قربانی صرف حاجیوں کے لئے مقرر ہے اور غیر حاجیوں کے لئے عید الاضحیٰ کے موقع پر کوئی قربانی مقرر نہیں؟ بے شک یہ درست ہے کہ قربانی صرف طاقت رکھنے والے لوگوں پر واجب ہے اور بعض احادیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر سارے گھر کی طرف سے ایک مستطیع شخص قربانی کر دے تو یہ قربانی سب کی طرف سے سمجھی جاسکتی ہے (ابوداؤد ) مگر بہر حال عید الاضحیٰ کے موقع پر حسب توفیق قربانی کرنا ہمارے رسول (فداہ نفسی ) کی ایک مبارک سنت ہے جس کے متعلق ہمارے آقا نے بہت تاکید فرمائی اور اسے بھاری ثواب کا موجب قرار دیا ہے۔کیا موجودہ زمانہ میں بھی قربانی ضروری ہے؟ اس سوال کا جواب او پر گزر چکا ہے کہ کیا عید الاضحی کے موقع پر قربانی صرف حاجیوں کے لئے مقرر ہے یا کہ اسے طاقت رکھنے والے غیر حاجیوں کے لئے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے؟ اب میں اس بحث کے دوسرے سوال کو لیتا ہوں یعنی یہ کہ اگر عید الاضحیٰ کے موقع پر غیر حاجیوں کی قربانی کا ثبوت ملتا بھی ہو تو پھر بھی کیا موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ مناسب نہیں کہ بھاری تعداد میں جانور قربان کر کے ضائع کرنے کی بجائے مستحق لوگوں میں نقد روپیہ تقسیم کر دیا جائے جو کئی قسم کی ضرورتوں میں ان کے کام آ سکتا ہے۔یا یہ روپیہ کسی قومی اور ملکی مصرف میں لایا جائے ؟ سو اس کے متعلق اصولی طور پر تو صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ نقد روپے کی صورت میں غریبوں کی امداد کرنا موجودہ زمانہ کی ایجاد نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ