مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 200 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 200

مضامین بشیر جلد چهارم 200 12 ربوہ کے رمضان کا روح پرور نظارہ میں سفر کا بہت کچا ہوں یا یوں سمجھ لیجئے کہ مرکز کا سخت دلدادہ ہوں۔قادیان کے زمانہ میں میری ساری عمر قادیان میں اور ربوہ کے زمانہ میں ربوہ میں گزری ہے اور بہت کم باہر رہا ہوں اور رمضان کا مہینہ تو میں نے خاص طور پر ہمیشہ مرکز میں گزارا ہے وَالشَّادُ كَالْمَعْدُوْمِ۔لیکن اس سال ایسا اتفاق ہوا کہ امّ مظفر احمد کی بیماری کے تعلق میں مجھے اس رمضان کے ابتدائی چند دن لاہور میں گزارنے پڑے اور میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا ایک مچھلی کو تالاب سے باہر نکال کر میدان میں پھینک دیا گیا ہے۔بیشک میں تین چار سال سے ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت روزہ نہیں رکھتا اور فدیہ ادا کر کے خدائے رحیم و کریم کی رعایت سے فائدہ اٹھاتا ہوں مگر رمضان میں صرف روزے کا ہی سوال نہیں ہوتا بلکہ اس مبارک مہینہ میں کثیر التعداد برکتوں کے اجتماع کی وجہ سے روزے سے محروم انسان بھی کئی قسم کی برکتوں سے حصہ پاسکتا ہے اور پالیتا ہے۔اور پھر خدا کے فضل سے ہمارے مرکز میں کسی ایک فرد کا انفرادی روزہ نہیں ہوتا بلکہ بعض محروم الصوم لوگوں کے باوجود گویا سارے شہر کا اجتماعی روزہ ہوتا ہے اور مرکز کی فضاء اور مرکز کے زمین و آسمان روزے کی گونا گوں برکات سے گونجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور تلاوت قرآن اور درس قرآن اور درسِ حدیث اور نوافل اور تراویح اور صلوۃ تہجد اور صلوٰۃ ضحی اور تحیات دعا وسلام اور درود اور ذکر الہی سے مرکز کے روز و شب اس طرح معمور نظر آتے ہیں جس طرح ایک برسنے والا گھنا با دل پانی کے قطروں سے معمور ہوتا ہے اور یہ دلکش روحانی کیفیت رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی دل آویزی کے ذریعہ گویا اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔وَ اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدُ۔اس سال مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ مسجد مبارک ربوہ میں اعتکاف میں بیٹھنے والوں میں خاصی تعدادان مخلصین کی ہے جو بیرونی مقامات سے آکر ربوہ میں رمضان کا آخری عشرہ گزارنا چاہتے ہیں اور میرے دل میں یہ زبردست تحریک پیدا ہو رہی ہے کہ کیا اچھا ہو کہ ربوہ کے قریبی اضلاع یعنی لاہور، سرگودھا، لائل پور (حال۔فیصل آباد)، شیخو پورہ، گوجرانوالہ اور گجرات وغیرہ سے ہر سال کوئی نہ کوئی دوست ربوہ آکر رمضان کا مہینہ یا کم از کم رمضان کا آخری عشرہ گزارا کریں اور رمضان کی برکات کا وہ روح پرور نظارہ دیکھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں ) جو اس وقت پاکستان میں ربوہ کے سوا اور کسی مقام کو حاصل نہیں۔