مضامین بشیر (جلد 4) — Page 156
مضامین بشیر جلد چهارم 156 بغیر چھت پر سونا کسی خطرے کا موجب ہو سکتا ہے بلکہ اس خیال سے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔ایک اور موقع پر جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرے میں تشریف رکھتے تھے اور اُس وقت باہر سے آئے ہوئے کچھ مہمان بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے کہ کسی شخص نے دروازے پر دستک دی۔اس پر حاضر الوقت لوگوں میں سے ایک شخص نے اُٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان صاحب کو اُٹھتے دیکھا تو جلدی سے اُٹھے اور فرمایا: ٹھہریں ٹھہریں، میں خود دروازہ کھولوں گا۔آپ مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔“ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل) یہ دونوں واقعات بظاہر بہت معمولی نوعیت کے ہیں مگر ان سے اس غیر معمولی جذبہ اطاعت پر زبر دست روشنی پڑتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اپنے مطاع اور آقا اور محبوب کے لئے جاگزین تھا اور ایک قدرتی چشمہ کے طور پر ہر وقت پھوٹ پھوٹ کر بہتا رہتا تھا۔آج کون ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایتوں کو حوظ رکھتا ہے؟ 8۔حضرت مسیح موعود کی زندگی تکلفات سے بالکل آزاد تھی۔ہمارے ماموں جان یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کی صحبت میں قریباً ستائیس ( 27 ) سال گزارے اور وہ بڑے زیرک اور آنکھیں کھلی رکھنے والے بزرگ تھے۔وہ مجھ سے اکثر بیان کیا کرتے تھے کہ مجھے دنیا میں بے شمار لوگوں سے واسطہ پڑا ہے اور میں نے دنیا داروں اور دینداروں سب کو دیکھا اور سب کی صحبت اُٹھائی ہے مگر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی شخص تکلفات سے کلی طور پر آزاد نہیں دیکھا۔اور یہی اس عاجز کا بھی مشاہدہ ہے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی تمام زندگی ایک قدرتی چشمہ ہے جو اپنے ماحول کے تاثرات سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنے طبعی بہاؤ میں بہتا چلا جاتا ہے۔میں ایک بہت معمولی سی بات بیان کرتا ہوں۔دنیا داروں بلکہ دین کے میدان میں پیروں اور سجادہ نشینوں میں عام طور پر یہ طریق ہے کہ ان کی مجلسوں میں مختلف لوگوں کے لئے ان کی حیثیت اور حالات کے لحاظ سے الگ الگ جگہ ملحوظ رکھی جاتی ہے۔مگر اپنے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں قطعاً