مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 107

مضامین بشیر جلد چهارم 107 حافظ و ناصر ہو اور انہیں اپنے خاص فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے۔میرے ہاتھ میں یہی دعا ان کی محبت اور ان کے اخلاص کا واحد بدلہ ہے۔ایک دوست نے ہندوستان کے ایک دور دراز شہر سے میری تسلی کے لئے لکھا ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔میں اس مخلص دوست کا ممنون ہوں مگر بتا دینا چاہتا ہوں کہ دراصل میری گھبراہٹ ایک طبعی بات تھی۔کیونکہ اول تو دعاؤں کی قبولیت کے لئے دل میں بے چینی پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ دعا ایک محض رسم بن کر رہ جاتی ہے۔دوسرے اس وقت اتم مظفر احمد وہ آخری بہو ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اپنے گھر سے رخصت ہو کر حضرت مسیح موعود کے گھر میں داخل ہوئیں۔تیسرے میری ان کی رفاقت پر اس وقت قریباً پچپن سال کا عرصہ گزرتا ہے۔( کیونکہ میری شادی 1906ء میں ہوئی تھی ) اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ دو جانوں کو گویا ایک جان اور دو قالب کا رنگ دے دیتا ہے۔چوتھے وہ بہت مخیر اور غریب نواز ہیں۔صدقہ وخیرات میں وہ ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور اپنے تعلقات میں بھی انہوں نے کبھی غریب اور امیر میں فرق نہیں کیا۔بلکہ غالبا غریبوں کے ساتھ زیادہ ہی تعلقات رکھے ہیں۔ان وجوہات سے میرے دل میں ان کی بہت قدر ہے اور ان کی تشویشناک بیماری میں میرے دل میں ان کے لئے بے چینی پیدا ہونا ایک طبعی امر ہے۔اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب گھر میں بیوی بیمار ہو تو خاوند کے لئے دینی کاموں میں عام حالات کی طرح حصہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ رعایت وہ ہے جو خود ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو دی ہے بلکہ اس کی تاکید فرمائی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: وَلَا هُلِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ ( صحیح بخاری کتاب الصوم باب من استم علی احبه ليفطر فيه ) یعنی تمہاری بیوی اور بچوں کا تم پر بھاری حق ہے اسی ہدایت کے ماتحت انسان کا فرض ہے کہ اپنی رفیقہ حیات کی علالت میں اس کے علاج اور اس کی خدمت کا پورا پورا حق ادا کرے اور یہ حق فکر مندی کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔مجھے یاد ہے کہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد مرحوم بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تیمار داری میں غیر معمولی فکر اور توجہ کے ساتھ حصہ لیا تھا۔بالآخر میں پھر دوبارہ احباب جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اتم مظفر احمد کی بیماری میں غیر معمولی محبت اور غیر معمولی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بہترین اجر سے نوازے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔دوست اب بھی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اتم مظفر احمد کو بعد کی تمام پیچیدگیوں