مضامین بشیر (جلد 4) — Page 82
مضامین بشیر جلد چهارم عید الاضحیٰ کی تعیین کے متعلق ایک علمی اور عملی مسئلہ 82 عید مکہ مکرمہ کی رؤیت کی بناء پر منائی جائے یا کہ اپنے علاقہ کی رؤیت کے مطابق؟ چونکہ قمری مہینہ کی پہلی رات کے چاند کی رویت میں مختلف ملکوں اور مختلف علاقوں میں ایک حصہ دن یا ایک دن یا دو دن کا فرق ہوتا ہے۔اور اس سال مکہ مکرمہ اور مغربی پاکستان کی رؤیت میں دو دن کا فرق پیدا ہو گیا تھا ( گو عرب اور پاکستان میں دو دن کا فرق سمجھ نہیں آیا کیونکہ ان ملکوں میں فاصلہ زیادہ نہیں ) اس وجہ سے نیز بعض دوسری وجوہات کی بناء پر اس سال خصوصیت سے بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ چونکہ حج مکہ مکرمہ کے ساتھ مخصوص ہے اور دنیا بھر میں صرف ایک ہی جگہ ہوتا ہے اور عید الاضحی کی نماز گویا حج ہی کا تتمہ ہے اور اس کے ساتھ ملحق ہو کر آتی ہے۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ کیوں نہ عالم اسلامی میں یک جہتی اور یک آہنگی پیدا کرنے اور یوم حج کی دعاؤں میں عالمگیر شرکت کا راستہ کھولنے کی غرض سے ہر جگہ عیدالاضحی کی تاریخ مکہ مکرمہ کی رؤیت کے مطابق مقرر کی جائے ؟ خصوصاً جبکہ آج کل تار اور ٹیلی فون اور ریڈیو اور وائرلیس کے ذریعہ اطلاعات کا نظام بھی بہت وسیع اور بے حد سریع ہو گیا ہے۔اس کے مقابل پر اکثر احباب کا خیال ہے کہ چونکہ عید الفطر اور عیدالاضحی کی تقریبات کی بنیاد شریعت اسلامی میں قطعی طور پر قمری نظام اور رویت ہلال پر رکھی گئی ہے اور نئے چاند کی رویت لاز ماہر ملک میں کسی قدر مختلف ہوتی ہے اور عید الفطر کے متعلق تو حدیث میں خصوصیت کے ساتھ صراحت آتی ہے کہ صُومُوا لِرُؤيَتِهِ وَ أَفَطِرُو لرؤيته ( صحیح بخاری کتاب الصوم)۔یعنی روزے رمضان کے چاند کی رؤیت سے شروع کرو اور عید الفطر بھی شوال کے چاند کی رؤیت کے مطابق مناؤ اور عید الاضحیٰ بھی اسی اصول کے مطابق قمری نظام اور رویت ہلال پر مبنی قرار دی گئی ہے۔اس لئے جیسا کہ چودہ سو سال سے آج تک بلا استثناء ہر اسلامی ملک میں ہوتا آیا ہے عید الاضحیٰ بھی اپنے علاقہ کی رؤیت کے مطابق منانی ضروری ہے ورنہ شریعت کے ایک بنیادی اصول میں جو سہولت عامہ کی بناء پر مقرر کیا گیا ہے رخنہ پیدا ہو جائے گا۔اور غیر حاجیوں نے تو بہر حال یوم حج کی دعائیں اپنی اپنی جگہ پر ہی کرنی ہوتی ہیں جو پھر بھی یوم حج کے مطابق اپنے اپنے گھروں میں کی جاسکتی ہیں۔اور یہ عاجز اسی طریق پر عامل رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔سو چونکہ یہ ایک اہم اور نازک سوال ہے اور صدیوں کے رائج شدہ طریق کو بدلنا بڑے خطرہ کا رستہ ہے اور اس کے بدلنے میں شریعت کے بیان کردہ قمری نظام اور علاقائی رؤیت ہلال کے اصول میں رخنہ پیدا ہوتا ہے اور یہ ساری باتیں بہت قابل غور ہیں۔اس لئے اس معاملہ میں ہر امکانی پہلو کی تحقیق کے لئے جماعت کے علماء کو اس بارے میں انتہائی حزم و احتیاط کے ساتھ غور کرکے کسی پختہ نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔