مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 81 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 81

81 مضامین بشیر جلد چهارم فیصلہ کر سکتا ہے۔مگر بہر حال اسے مشورہ لینے اور لوگوں کی رائے کا علم حاصل کرنے کا ضرور حکم ہے۔اسلام میں یہ نظام خلافت ایک نہایت عجیب و غریب بلکہ عدیم المثال نظام ہے۔یہ نظام موجود الوقت سیاسیات کی اصطلاح میں نہ تو پوری طرح جمہوریت کے نظام کے مطابق ہے اور نہ ہی اسے موجودہ زمانہ کی ڈکٹیٹرشپ کے نظام سے تشبیہہ دے سکتے ہیں۔بلکہ یہ نظام ان دونوں کے بین بین ایک علیحدہ قسم کا نظام ہے۔جمہوریت کے نظام سے تو وہ اس لئے جدا ہے کہ جمہوریت میں صدر حکومت کا انتخاب میعادی ہوتا ہے۔مگر اسلام میں خلیفہ کا انتخاب میعادی نہیں بلکہ عمر بھر کے لئے ہوتا ہے۔دوسرے جمہوریت میں صدرِ حکومت بہت سی باتوں میں لوگوں کے مشورہ کا پابند ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کو مشورہ لینے کا حق تو بے شک ہے مگر وہ اس مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔بلکہ مصلحت عامہ کے ماتحت اسے رڈ کر کے دوسرا طریق اختیار کر سکتا ہے۔دوسری طرف یہ نظام ڈکٹیٹر شپ سے بھی مختلف ہے۔کیونکہ اول تو ڈکٹیٹر شپ میں میعادی اور غیر میعادی کا سوال نہیں ہوتا۔اور دونوں صورتیں ممکن ہوتی ہیں۔دوسرے ڈکٹیٹر کو عموما کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں حتی کہ وہ حسب ضرورت پُرانے قانون کو بدل کر نیا قانون جاری کر سکتا ہے مگر نظام خلافت میں خلیفہ کے اختیارات بہر صورت شریعت اسلامی اور نبی متبوع کی ہدایات کی قیود کے اندر محدود ہوتے ہیں۔اسی طرح ڈکٹیٹر مشورہ لینے کا پابند نہیں مگر خلیفہ کو مشورہ لینے کا حکم ہے۔الغرض خلافت کا نظام ایک نہایت ہی نادر اور عجیب و غریب نظام ہے جو اپنی روح میں تو جمہوریت کے قریب تر ہے مگر ظاہری صورت میں ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ قریب ہے۔مگر وہ حقیقی فرق جو خلافت کو دنیا کے جملہ نظاموں سے بالکل جدا اور ممتاز کر دیتا ہے وہ اس کا دینی منصب ہے۔خلیفہ ایک انتظامی افسر ہی نہیں ہوتا بلکہ نبی کا قائم مقام ہونے کی وجہ سے اسے ایک روحانی مقام بھی حاصل ہوتا ہے۔وہ نبی کی جماعت کی روحانی اور دینی تربیت کا نگران ہوتا ہے۔اور لوگوں کے لئے اسے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے اور اس کی سنت سند قرار پاتی ہے۔( ابوداؤد کتاب السیۃ ) پس منصب خلافت کا یہ پہلو نہ صرف اسے دوسرے تمام نظاموں سے ممتاز کر دیتا ہے بلکہ اس قسم کے روحانی نظام میں میعادی تقریر کا سوال ہی نہیں اُٹھ سکتا۔(ماہنامہ خالد۔خلافت نمبر مئی 1960ء)