مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 726 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 726

مضامین بشیر جلد سوم 726 (27) لیکن چونکہ بعض صورتوں میں زیادہ بچے مالی لحاظ سے واقعی بوجھ کا موجب ہو سکتے ہیں اس لئے اگر با وجود ساری باتوں کے کوئی شخص زیادہ کنبہ دار ہونے کی وجہ سے اپنی پوری کوشش کے باوجود اپنی جائز اور اقل ضروریات اپنی آمدن کے اندر پوری نہ کر سکے تو اس کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کی اقل ضروریات جو کھانے پینے اور کپڑے اور مکان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے پورا کرنے کی ذمہ واری حکومت پر ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا اور اسی اصول کے مطابق قرآن کریم فرماتا ہے کہ: إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرى ٥ وَأَنَّكَ لَا تَظْموا فِيهَا وَلَا تَضُحى (طه: 119-120) یعنی حقیقی بہشتی زندگی دنیا میں یہ ہے کہ اے انسان تو بھوکا نہ رہے اور نہ ہی ضروری لباس سے محروم ہو۔اور نہ ہی سردی میں ٹھٹھرے اور نہ ہی پیاس کی تکلیف اٹھائے اور نہ ہی دھوپ کی شدت میں جلے۔تفصیل کے لئے دیکھو خا کسار کی تصنیف ”سیرت خاتم النبیین حصہ سوم ) چنانچہ مغربی دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ملک اس ذمہ داری کو اٹھاتے ہیں اور اسلام میں زکوۃ کا نظام بھی اسی غرض سے مقرر کیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَ تُرَدُّ إِلَى فُقَرَآئِهِمْ ( بخاری کتاب الزکوۃ باب وجوب الزكاة ) یعنی زکوۃ اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ امیروں سے ان کی دولت کا کچھ حصہ کاٹ کر غریبوں کی طرف لوٹایا جائے۔اس حدیث میں لوٹایا جائے کے الفاظ میں یہ لطیف اشارہ مقصود ہے کہ یہ امداد غریبوں پر احسان نہیں ہے بلکہ غریبوں کا حق ہے جو ان کو ملنا چاہئے۔(28) برتھ کنٹرول کے سوال کے ضمن میں عورتوں کی صحت اور ان کے لئے مناسب طبی امداد کا سوال بھی آتا ہے۔اسی طرح غریب ماں باپ کے بچوں کی تعلیم کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ کثیر التعداد عورتیں اپنی زندگیوں کو خطرہ سے بچانے اور اپنے بچوں کو خاطر خواہ تعلیم دلانے کے لئے برتھ کنٹرول کا رستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔بادی النظر میں یہ سوال یقیناً قابل غور معلوم ہوتا ہے لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے جہاں تک کسی خاص فرد کی زندگی کو بچانے کا سوال ہے برتھ کنٹرول تو کجا ڈاکٹری مشورہ سے حمل تک گرانے کی اجازت ہے۔مگر سوچا جائے تو عام حالات میں یعنی ملکی پیمانہ پر اس کا حقیقی علاج برتھ کنٹرول نہیں ہے بلکہ طبی امداد کی زیادہ سہولتیں مہیا کرنا اور عامتہ الناس اور خصوصاً غریبوں کے مفت علاج کا انتظام