مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 725 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 725

مضامین بشیر جلد سوم 725 وَمَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُراغَمًا كَثِيرًا وَّسَعَةً (النساء:101) یعنی جو شخص کسی مجبوری سے خدا کی خاطر اپنا وطن بدلتا ہے وہ زمین میں بہت کامیابی اور وسعت کا سامان پائے گا۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے: أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ (الزمر: 11) یعنی اللہ کی زمین وسیع ہے۔اس کی تنگی کے خیال سے نہ گھبراؤ۔(26) ماہرین آبادی کا یہ بھی خیال ہے کہ اس ملک میں آبادی کا اتنا گر جانا کہ اوسطاً فی گھر بچوں کی تعداد چار بچوں سے کم ہو جائے خطرناک ہوتا ہے اور ملک وقوم کے انحطاط کا باعث بن جاتا ہے۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ: کسی قوم یا ملک میں آبادی کے صحیح تناسب کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک فیملی میں بچوں کی تعداد چار سے کم نہ ہو۔بچے پیدا کرنے کے قابل ہوتے ہوئے صرف تین بچے پیدا کرنا اپنی بقا کے لئے ضروری آبادی کا صرف تین چوتھائی حصہ مہیا کرنا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا ایڈیشن 14 جلد 3 صفحہ 648 کالم نمبر 2) اس حوالہ سے ثابت ہے کہ ایک فیملی میں یعنی ایک ماں باپ کے ہاں بچوں کی تعداد چار سے کم نہیں ہونی چاہئے (خیال رہے کہ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ بچوں کی تعداد چار سے زیادہ نہ ہو بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ چار سے کم نہ ہو) اور چونکہ یہ رائے ملکی اوسط کے اصول پر مبنی ہے اور ملک میں بہت سے والدین اولاد سے بالکل ہی محروم رہتے ہیں اور بعض کے صرف ایک دو بچے ہوتے ہیں اور بعض مرداور عورتیں شادی ہی نہیں کرتیں ( گو یہ بات اسلامی تعلیم کے خلاف ہے ) اس لئے اگر بعض گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ بھی ہو جائے تو ہر گز کسی قومی خطرے یا نقصان کی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔اب بھی یہ بات غالباً پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر اس وقت پاکستان کے سارے خاندانوں کے بچوں کی اوسط فی گھر کے حساب سے نکالی جائے تو وہ یقیناً بحیثیت مجموعی فی گھر چار بچوں سے کم ہی رہے گی۔اندریں حالات خطرہ تو در کنار شائد موجودہ حالات میں کمی کی صورت ہی ظاہر ہوگی۔اس جگہ یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ چار بچوں کی اقل تعدا د تو در کنار بعض ملکوں میں اس سے بہت زیادہ تعداد پسند کی جاتی ہے۔چنانچہ فلسطین کی اسرائیلی حکومت نے ایسی عورتوں کے لئے معقول انعام مقرر کئے ہیں جو دس بچے پیدا کریں اور یہ بچے زندہ موجود ہوں۔(رپورٹ مولانا محمد شریف سابق مبلغ اسلام فلسطین )