مضامین بشیر (جلد 3) — Page 721
مضامین بشیر جلد سوم 721 در حقیقت اب و سائل رسل و رسائل کی وسعت اور ملکوں کے باہمی روابط کے نتیجہ میں دنیا در اصل ایک ملک کے حکم میں آچکی ہے۔اس لئے اس کے مسائل کو بھی اسی وسیع نقطہ نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔اگر ایک ملک ایک چیز زیادہ پیدا کرتا ہے تو دوسرا ملک کوئی دوسری چیز زیادہ پیدا کرتا ہے اور اسی طرح باہم تبادلہ سے سب کا کام چلتا چلا جاتا ہے ورنہ حقیقتا دنیا کا کوئی ملک بھی ایسا نہیں جو اپنی ضرورت کی ہر چیز خود پوری مقدار میں پیدا کر رہا ہو۔(20) مگر باوجود اس کے قرآن مجید نے سارے حالات کو دیکھتے ہوئے پیدائش نسل کے متعلق بعض قدرتی کنٹرول خود بھی قائم کئے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے: وَحَمْلُهُ وَفِصْلُهُ ثَلْثُونَ شَهْرًا (الاحقاف: 16) یعنی بچہ کے حمل میں رہنے اور اور دودھ پینے کا زمانہ میں (30) مہینے یعنی اڑھائی سال ہونا چاہئے۔اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کی سُو ( یعنی اس کے دو بچوں کے درمیان کا وقفہ ) کم ہو اور وہ جلد جلد بچہ جنتی ہو جیسا کہ بعض عورتیں ہر سال بچہ جنتی ہیں جس کے نتیجہ میں عورت کی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے اور بچے بھی لازماً کمزور رہتے ہیں تو اس صورت میں وقتی برتھ کنٹرول کے ذریعہ دو بچوں کی ولادت کے درمیانی عرصہ کو مناسب طور پر لمبا کیا جاسکتا ہے۔(21) ایک اور جہت سے بھی اسلام نے اس معاملہ میں ایک حکیمانہ کنٹرول قائم کیا ہے جو میاں بیوی کی صحتوں پر خراب اثر پڑنے سے روکتا ہے۔وہ یہ کہ گو خاص حالات میں اسلام نے چھوٹی عمر کی شادی کی اجازت دی ہے مگر عام حالات میں اسے پسند نہیں کیا۔تا کہ نہ تونسل کی صحت پر کوئی خراب اثر پڑے اور نہ بعد میں امکانی جھگڑے اٹھ کر باہمی تعلقات میں تلخی پیدا کرنے کا موجب بنیں۔چنانچہ اگر استثنائی حالات میں کسی جوڑے کی چھوٹی عمر میں شادی ہو جائے تو اسلام نے لڑکی کو اس کے بڑا ہونے پر خیار بلوغ کا حق دیا ہے۔خود ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شادی بھی پچیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔البتہ اگر کوئی خاص خاندانی یا قومی فوائد متوقع ہوں تو استثنائی صورت میں چھوٹی عمر میں بھی شادی ہوسکتی ہے۔(22) یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے طبی ضرورت کے علاوہ جس میں مرد عورت کی زندگی اور صحت کا سوال ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل یعنی عارضی برتھ کنٹرول کی استثنائی اجازت دراصل زیادہ سفر کی حالت میں یا لونڈیوں کے متعلق دی ہے جو اس زمانہ کے حالات کا ایک وقتی اور ناگزیر نتیجہ تھیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ :