مضامین بشیر (جلد 3) — Page 720
مضامین بشیر جلد سوم چاول 10 من 720 27 من 40 من ایکونا مک پرابلمز مصنفہ الیس عنایت حسین ملتی 10 من کتا 325 سواتین سومن 21 من 540 پنجاب ایگریکلچر جاوا1500 ایکونا مک پر اہلمز من من ان اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ قرآنی آئیڈیل تو بہت دور کی بات ہے ابھی پاکستان کے لئے بعض دوسرے ممالک کے مقابل پر بھی بڑی ترقی کی گنجائش ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اعلیٰ قلبہ رانی اور بہتر بیج اور پانی کی بہتر سپلائی اور کھاد کے بہتر انتظام سے وہ دوسرے ملکوں سے پیچھے رہے جبکہ اس کی زمین مسلمہ طور پر زرخیز مانی گئی ہے۔اور خصوصاً جبکہ پنجاب کے زراعتی فارم کے بعض تجربات میں جو چھوٹے رقبوں میں کئے گئے ہیں گندم کی پیداوار 1/2-56 من فی ایکڑ تک پہنچی ہے۔( پنجاب ایگریکلچر ) ނ (18) خوراک کے معاملہ میں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان تو خدا کے فضل۔بنیادی طور پر خوراک کے معاملہ میں خود مکلفی ہے صرف ایک وقتی اور عارضی کمی آگئی ہے جو بنجر زمینوں کو آباد کرنے اور سیم اور تھور کا ازالہ کرنے اور نہروں کو درست کرنے اور ٹیوب ویل وغیرہ لگانے سے بآسانی دور ہوسکتی ہے۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بنیادی طور پر کمی خوراک کے علاقے ہیں جن کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ دوسرے ملکوں سے اپنی خوراک خریدیں اور اپنی خام اور پختہ پیداواران کو دیں۔تو جب تبادلۂ اجناس کا یہ نظام دنیا میں وسیع طور پر قائم ہے اور کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے تو پاکستان کو کیا فکر ہوسکتا ہے؟ البتہ غالبا اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کی اکانومی میں صنعت کے عصر کوکسی قدر مزید بلند کیا جائے۔(19) دنیا کے وسیع منظر پر بھی غذا کا مسئلہ ماہرین کے نزدیک کم از کم فی الحال چنداں قابلِ فکر نہیں۔چنانچہ نیشنل ہر تھ ریٹ کمیشن جو آبادی کے مسئلہ پر غور کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کی رپورٹ میں صراحتاً مذکور تھا کہ: اس بات کی کوئی شہادت نہیں کہ دنیا کی موجودہ آبادی کی ضروریات کے لئے اس کے قدرتی خزائن مکفی نہیں ہیں۔بلکہ اس کے الٹ ان قدرتی ذرائع اور وسائل سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے دنیا کی موجودہ آبادی سے زیادہ آبادی کی ضرورت ہے جس کا معیار زندگی بھی اونچار کھا جا سکتا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا ایڈیشن 14 جلد 3 صفحہ 647 کالم 2)