مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 708 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 708

مضامین بشیر جلد سوم 708 گزشتہ سال میں نے آپ لوگوں کی خواہش پر آپ کے سالانہ اجتماع کے لئے ایک پیغام بھجوایا تھا اور اس سال مجھ سے پھر درخواست کی گئی ہے کہ آپ کے دوسرے سالانہ اجتماع کے موقع پر بھی کوئی پیغام ارسال کروں۔نوجوانوں کو نصیحت اور نیکیوں کی تحریک کے لئے کوئی کلمات تحریر کرنا خود اپنی ذات میں ایک بڑی نیکی ہے اور کسی ہمدر دملت کو اس سے تھکنا نہیں چاہئے۔لیکن اگر ہر سال کوئی نیا پیغام لینا ہو تو اس کا صحیح طریق یہ ہے کہ پیغام دینے والے کو اپنی سال بھر کی کارروائی سے اطلاع دی جائے تا کہ اس کی روشنی میں نیا پیغام مرتب کیا جاسکے۔اگر احمدیت زندہ ہے اور خدا کے فضل سے ضرور زندہ ہے تو ہر شہر اور ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں اس کا قدم ہر سال ترقی کی طرف اٹھنا چاہئے۔اور ترقی کے معنی تبدیل شدہ حالات ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ جس شخص سے کوئی نیا پیغام مانگا جائے اسے اپنے تبدیل شدہ حالات اور اپنے ترقی کے قدموں سے اطلاع دی جائے۔ورنہ اگر کسی جماعت کے حالات میں کوئی تبدیلی یا کوئی ترقی نہیں تو لازماً اسے کسی نئے پیغام کی ضرورت نہیں۔اس کے لئے وہی سابقہ پیغام قائم سمجھا جائے گا۔اور ترقی کے آثار کونا پنے کا پیمانہ عموماً ذیل کی چار باتوں میں محدود و محصور ہے: اول: کیا خدام الاحمدیہ یا بالفاظ دیگر مقامی جماعت نے سال کے دوران میں تعداد کے لحاظ سے کوئی ترقی کی ہے؟ دوم: کیا مقامی جماعت کے چندوں یعنی مالی قربانی میں کوئی ترقی ہوئی ہے؟ سوم : کیا مقامی جماعت کی تنظیم نے کوئی قدم ترقی کی طرف اٹھایا ہے؟ چہارم: کیا مقامی جماعت کی تربیت اور اس کے اخلاص اور اتحاد اور دین داری اور خدمتِ خلق میں کوئی آثار ترقی کے نظر آتے ہیں؟ یہ وہ چار بنیادی باتیں ہیں جن سے کسی جماعت کی ترقی یا (نعوذ باللہ) تنزل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ اگر کسی جماعت میں ترقی کے آثار نہیں پائے جاتے اور وہ اپنی جگہ پر قائم ہے تو خدائی جماعتوں کے معیار کے مطابق اس صورت کو بھی تنزل ہی شمار کیا جائے گا۔اس لئے میرا پیغام اس سال یہی ہے کہ خدام الاحمدیہ راولپنڈی کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ ان چار باتوں کے لحاظ سے اپنی ترقی کا جائزہ لیں اور اگر خاطر خواہ ترقی کی علامات نہیں پائی جاتیں تو پھر اپنی فکر کریں اور چوکس ہو کر اپنی مساعی کو دو چند کریں۔ایک خاص بات جو اس سال پیدا ہوئی ہے یہ ہے کہ اس سال راولپنڈی پاکستان کا دارالسلطنت یعنی