مضامین بشیر (جلد 3) — Page 706
مضامین بشیر جلد سوم 706 ہمیشہ یہی فرمایا کہ الْفَقْرُ فَخری یعنی یہ نگی بھی میرے لئے فخر کا موجب ہے۔ایک دفعہ جب آپ وسیع حکومت کے حکمران تھے ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس ایک فرمائش لے کر آئی۔لیکن آپ کے خدا داد رعب کو دیکھ کر کانپنے لگ گئی اور منہ سے کچھ بول نہیں سکی۔آپ اس کی یہ حالت دیکھ کر جلدی سے اس کی طرف بڑھے اور اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔مائی ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ تمہاری ہی طرح ایک انسان ہوں۔ایک اور بوڑھی غیر معروف سی عورت مسجد نبوی میں ثواب کی خاطر جھاڑو دیا کرتی تھی۔وہ بیچاری چند دن بیمار رہ کر فوت ہو گئی۔آپ نے جب دیکھا کہ وہ مسجد میں نہیں آتی تو صحابہ سے دریافت فرمایا کہ اس ضعیفہ کا کیا حال ہے؟ صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! وہ بے چاری تو چند دن بیمار رہ کر اللہ کو پیاری ہو گئی۔آپ نے غم کے انداز میں فرمایا۔مجھے کیوں اطلاع نہیں دی میں اس کا جنازہ پڑھتا اور پھر آپ نے اس کی قبر پر جا کر دعا فرمائی۔دوسری قوموں کے لیڈروں کا اتنا اکرام تھا کہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ إِذَا جَاءَ كُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فا كرموه - یعنی جب تمہارے پاس کسی قوم کا رئیس اور لیڈ ر آئے تو اس کی واجبی عزت کیا کرو۔اور آپ نے باوجود ذاتی طور پر انتہائی سادگی کے اپنے لئے ایک خاص لباس رکھا ہوا تھا تا کہ دوسری قوم کے وفدوں کی ملاقات کے وقت پہنا جائے۔اس میں اپنی خواہش کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ محض دوسری اقوام کا اکرام ملحوظ تھا۔مرض الموت میں صحابہ سے فرمایا۔میری وفات کے بعد وفدوں کے اکرام میں فرق نہ آنے دینا۔میرا یہ قلم برداشته مضمون میرے ابتدائی اندازے اور غالباً الفضل کی موجودہ گنجائش کے لحاظ سے بھی کچھ زیادہ لمبا ہو گیا ہے اس لئے ایک آخری بات کہہ کر اسے ختم کرتا ہوں۔خدا کا یہ رحمۃ اللعالمین وجود فخر اولین و آخرین (فداه فسی) انسان تو انسان جانوروں اور حیوانوں تک کے لئے بھی ایک رحمت تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ فِي كُلِّ كَبَدٍ حَرِّ أَجْرٌ۔یعنی یہ نہ سمجھو کہ صرف انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہی ایک نیکی ہے بلکہ ہر جاندار چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور اس پر رحم کرنا خدا کے نزدیک ایک قابل اجر نیکی شمار ہوتی ہے۔اور اس کی مثال میں فرماتے تھے کہ ایک فاحشہ عورت تھی اس نے ایک دفعہ ایک کتے کو دیکھا کہ وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے بے حال ہو رہا ہے اور قرب وجوار میں کوئی پانی نہیں تھا۔اس عورت کو کتے کی یہ حالت دیکھ کر اس پر رحم آیا اور وہ ایک تاریک کنوئیں میں بڑی مشکل سے اتری اور اپنے چمڑے کے موزے میں اس کے لئے پانی بھر کر باہر لائی اور کتے کو پلایا۔خدا کو اس کی یہ نیکی اتنی پسند آئی کہ اس نیکی کی وجہ سے اسے بخش دیا۔اور خدا کی توفیق سے اس عورت کی آئندہ زندگی نیکی