مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 664 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 664

مضامین بشیر جلد سوم 664 کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جو نسیان والی بیماری کے ایام میں حضور کی تھی اور حضور سمجھتے تھے کہ اس کی وجہ سے میری تبلیغی کوششوں میں کوئی کمی نہ آجائے۔( صحیح مسلم بحوالہ فتح الباری جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 178 ) اور دوسرا عنوان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کا حصہ ہے جو حضور نے دعا کے فلسفہ کی ذیل میں فرمایا تھا اور ان دونوں کا مال یہی ہے کہ بے شک الہی جماعتیں دنیا کے ظاہری اسباب کو بھی ضرور کام میں لاتی ہیں کیونکہ وہ بھی خدا کے پیدا کردہ اسباب ہیں اور ان کو نظر انداز کرنا گویا ایک طرح سے خدائی حکومت سے بغاوت کا رنگ رکھتا ہے۔مگر خدائی جماعتوں کا اصل بھروسہ روحانی اسباب پر ہوتا ہے جنہیں حرکت میں لانے کا ذریعہ دعا ہے۔پس اب جبکہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طبیعت کسی قدر درمیانی افاقہ کے بعد پھر کچھ زیادہ خراب ہو رہی ہے۔جیسا کہ گزشتہ چند دن کی ڈاکٹری رپورٹوں اور خصوصاً آج کی رپورٹ سے ظاہر ہے تو میں احباب جماعت کو پھر زور دار تحریک کرتا ہوں کہ وہ حضور کی صحت اور کام کی لمبی عمر کے لئے دعا کرنے میں ہرگز غافل نہ ہوں۔اس وقت جماعت ایک بہت نازک دور میں سے گزر رہی ہے کیونکہ وہ اپنی ترقی کے موعودہ مراحل کے قریب پہنچ چکی ہے اور قوموں کی زندگی میں یہ وقت بڑا نازک اور قابلِ فکر ہوا کرتا ہے۔جبکہ اس کی قیادت میں ذراسی کمی یا کوتاہی اس کی ترقی کو بہت پیچھے ڈال سکتی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں ہوشیار کیا گیا ہے کہ جب ترقی کا زمانہ آئے تو پہلے سے بہت زیادہ تسبیح ( یعنی دعا ) اور پہلے سے بہت زیادہ طلب مغفرت (یعنی دین کے راستہ میں جد وجہد ) سے کام لینا۔یہی سنہری رستہ ہماری جماعت کے لئے بھی ازل سے مقدر ہے۔اور اگر جماعت نے اس ہدایت پر عمل کرنے میں ستی کی تو پھر اس کا خدا حافظ ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک اسوہ کے مطابق کہ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا جماعت کو بھی اس وقت دعاؤں میں غیر معمولی کثرت اور غیر معمولی استقلال سے کام لینا چاہئے۔کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ خدا کے علم میں قبولیت کی کونسی گھڑی ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہم ذراسی سستی سے اس مبارک گھڑی کو کھو بیٹھیں۔پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد سے ظاہر ہے ہمیں یہ بات بھی کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ ہوگا۔حضور فرماتے ہیں: دعا میں اللہ تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا نے مجھے بار بار بذریعہ الہام یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ ہو گا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔مگر اکثر لوگ دعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دعا کے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچنے کے واسطے کس قدر