مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 604 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 604

مضامین بشیر جلد سوم 604 اماں جان محبت اور ناز کے انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کرتی تھیں کہ میرے آنے کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے۔جس پر حضرت مسیح موعود ہنس کر فرماتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے“ حضرت اماں جان کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔مگر اس جگہ میں صرف اشارہ کے طور پر نمونہ چار باتوں کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔آپ کی نیکی اور دین داری کا مقدم ترین پہلونماز اور نوافل میں شغف تھا۔پانچ فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے حضرت اماں جان نماز تہجد اور نماز ضحی کی بھی بے حد یا بند تھیں۔اور انہیں اس ذوق و شوق سے ادا کرتی تھیں کہ دیکھنے والوں کے دل میں بھی ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی تھی بلکہ ان نوافل کے علاوہ بھی جب موقع ملتا نماز میں دل کا سکون حاصل کرتی تھیں۔میں پوری بصیرت کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیارا قول کہ جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِی الصَّلوة ( یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے ) حضرت اماں جان کو بھی اپنے آقا سے ورثے میں ملا تھا۔پھر دعا میں بھی حضرت اماں جان کو بے حد شغف تھا۔اپنی اولا داور ساری جماعت کے لئے جسے وہ اولاد کی طرح سمجھتی تھیں بڑے در دو سوز کے ساتھ دعا فرمایا کرتی تھیں۔اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے ان کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی۔اپنی ذاتی دعاؤں میں جو کلمہ ان کی زبان پر سب سے زیادہ آتا تھا وہ یہ مسنون دعا ہی تھی کہ: يَا حَبِيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ یعنی اے میرے زندہ خدا اور اے میرے زندگی بخشنے والے آقا ! میں تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتی ہوں۔یہ وہی جذبہ ہے جس کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر فر مایا ہے کہ : تیری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر مری جاں تیرے فضلوں کی پناہ گیر صدقہ و خیرات اور غریبوں کی امداد بھی حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کا نمایاں خلق تھا اور اس میں وہ خاص لذت پاتی تھیں اور اس کثرت کے ساتھ غریبوں کی امداد کرتی تھیں کہ یہ کثرت بہت کم لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔جو شخص بھی ان کے پاس اپنی مصیبت کا ذکر لے کر آتا تھا حضرت اماں جان اپنی مقدور سے بڑھ کر اس کی امداد فرماتی تھیں۔اور کئی دفعہ ایسے خفیہ رنگ میں امداد کرتی تھیں کہ کسی اور کو پتہ تک نہیں چلتا تھا۔اسی ذیل میں ان کا یہ بھی طریق تھا کہ بعض اوقات یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے مکان پر بلا کر کھانا کھلاتی تھیں۔اور بعض اوقات ان کے گھروں پر بھی کھانا بھجوا دیتی تھیں۔ایک دفعہ ایک واقف کار شخص سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو کسی ایسے شخص (احمدی یا غیر احمدی، مسلم یا غیر مسلم ) کا علم ہے جو قرض کی وجہ سے