مضامین بشیر (جلد 3) — Page 603
مضامین بشیر جلد سوم أذكُرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِي ( تذکره) یعنی اے خدا کے برگزیدہ پیج تو میری اس نعمت کو یاد کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا ہے۔603 اب مختصر الفاظ میں حضرت اماں جان کی بلند اخلاقی اور بلند اقبالی کے لئے کئی زبر دست پہلو بیان کئے گئے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس الہام میں آپ کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے ” میری نعمت کے شاندار الفاظ سے یاد کیا ہے۔جس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا وجود ایک عام نعمت ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی خاص نعمت ہے۔جیسا کہ ”میری“ کے لفظ میں اشارہ ہے۔پھر اس کے ساتھ اُذْكُرُ کا لفظ بڑھا کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو یا در کھنے کے قابل ہے اور بھلانے والی نہیں۔اور بالآخر خدیجہ کا لفظ فرما کر اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ حضرت اماں جان کا وجود اپنی برکات اور افضال کے لحاظ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مثیل ہے۔اور خدیجہ کے ساتھ پھر دوبارہ ” میری“ کا لفظ بڑھا کر اپنی غیر معمولی محبت اور حضرت اماں جان کے غیر معمولی قرب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور جیسا کہ ہر مسلمان جانتا ہے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ شان ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی خوبیوں میں نہایت بلند مرتبہ رکھتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حد جاں نثار اور وفادار اور خدمت گزار اور رفیق کار اور سمجھدارز وجہ تھیں جنہوں نے ہر تنگی اور ترشی میں آپ کا ساتھ دیا اور ابتدائی گھبراہٹ کی گھڑیوں میں بے نظیر طریق پر آپ کی دلداری اور ہمت افزائی فرمائی۔بلکہ یہی وہ اکیلی مقدس زوجہ محتر م تھیں جن سے آپ کی مبارک نسل کا سلسلہ چلا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اماں جان کے متعلق بھی اپنے آمین والے اشعار میں نسل سیدہ کے الفاظ فرما کر اسی قسم کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ حدیث میں جو الفاظ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کے متعلق يَتَزَوَّج و يُولَدُ لهُ (مشکوۃ باب نزول عیسی صفحہ 480) کے فرمائے ہیں ( یعنی مسیح شادی کرے گا اور اس کے اولا د ہوگی ) ان میں بھی درحقیقت اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شادی 1884 میں ہوئی تھی اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوئی مجددیت کا اعلان فرمایا تھا۔اور پھر سارے زمانہ ماموریت میں حضرت اماں جان مرحومه مغفوره حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیق حیات رہیں اور حضرت مسیح موعود انہیں انتہا درجہ محبت اور انتہا درجہ شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی بے حد دلداری فرماتے تھے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ زبردست احساس تھا کہ یہ شادی خدا کے خاص منشاء کے ماتحت ہوئی ہے۔اور یہ کہ حضور کی زندگی کے مبارک دور کے ساتھ حضرت اماں جان کو مخصوص نسبت ہے۔چنانچہ بعض اوقات حضرت