مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 577 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 577

مضامین بشیر جلد سوم 577 لئے تو کوئی حد نہیں۔جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہو گا۔قرآن کی تلاوت حتی الوسع ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر کرنی چاہئے اور رحمت کی آیتوں پر طلب رحمت کی دعا اور عذاب کی آیتوں پر تو بہ واستغفار کرنا مسنون ہے۔رمضان میں غیر معمولی صدقہ و خیرات: رمضان میں صدقہ و خیرات پر بھی اسلام نے بہت زور دیا ہے۔صدقہ و خیرات میں دوہری غرض مد نظر ہے۔ایک تو یہ کہ غریب بھائیوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کا رستہ کھلے تا کہ وہ بھی رمضان کے بڑھے ہوئے اخراجات کو خوشی اور دلجمعی کے ساتھ پورا کر سکیں۔دوسرے یہ کہ یہ صدقہ وخیرات صدقہ کرنے والوں کے لئے رد بلا کا موجب ہو۔حدیث میں آتا ہے کہ : إِنَّ الصَّدَقَةَ تَطْفى غَضَبَ الرَّبِّ ( ترمذی باب فضل الصدقه ) یعنی صدقہ و خیرات خدا کے غضب کو روک دور کرتا اور اس کی تلخ تقدیروں کو روکتا ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ مالی تنگی کے باوجود آپ کا ہاتھ رمضان کے مہینہ میں غریب مسلمانوں کی امداد میں اس طرح چلتا تھا کہ گویا کہ وہ ایک تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔یہ مبارک اسوہ ہر سچے مسلمان کے لئے مشعل راہ ہونا چاہئے۔صدقۃ الفطر کا فریضہ: اس طوئی صدقہ کے علاوہ اسلام میں عید الفطر کی آمد پر صدقۃ الفطر کا بھی حکم دیا گیا ہے جو عید سے پہلے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔اس کی مقدار خوشحال لوگوں کے لئے ایک صاع گندم اور عام لوگوں کے لئے نصف صاع گندم مقرر ہے جو آج کل کے ریٹ کے لحاظ سے ایک روپیہ اور نصف روپیہ فی کس بنتی ہے۔صدقۃ الفطر ہر مرد و عورت، بچے بوڑھے، امیر غریب پر فرض کیا گیا ہے تا کہ اس مشترکہ فنڈ سے عید کے موقع پر غریب بھائیوں کی امداد کی جاسکے۔حتی کہ جن غریبوں نے صدقۃ الفطر سے خود امداد حاصل کرنی ہو ان کو بھی حکم ہے کہ اپنی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کریں تا کہ یہ فنڈ صحیح معنوں میں قومی فنڈ کی صورت اختیار کر لے۔صدقہ الفطر کو مرکز میں بھجوانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے مقامی طور پر آس پاس کے غریبوں پر خرچ کرنا چاہئے۔اعتکاف کی مخصوص عبادت: گواسلام میں رہبانیت یعنی ترک دنیا جائز نہیں کیونکہ وہ انسان کو اس کے فطری تقاضوں کے مطابق