مضامین بشیر (جلد 3) — Page 576
مضامین بشیر جلد سوم 576 رمضان میں نفلی نمازیں: رمضان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفلی نمازوں پر بہت زور دیا ہے۔نفلی نمازوں میں سب سے افضل اور سب سے ارفع تہجد کی نماز ہے جو رات کے نصف آخر میں صبح صادق سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔اس نماز کی برکت اور شان اس بات سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید تہجد کی نماز کے متعلق فرماتا ہے کہ اس کے ذریعہ انسان اپنے مقام محمود کو پہنچ جاتا ہے۔مقام محمود ہر شخص کا جدا ہوتا ہے کیونکہ اس سے ترقی کا وہ انتہائی نقطہ مراد ہے جو کوئی شخص اپنے حالات اور اپنی فطری استعدادوں کے مطابق حاصل کر سکتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام محمود جس کا آپ کو وعدہ دیا گیا ہے وہ سب اولین و آخرین سے افضل اور ارفع ترین ہے۔بہر حال تہجد کی نماز انسانوں کی روحانی ترقی کے لئے بہترین سیڑھی ہے۔کاش ہمارے نوجوان دوست اس کی قدر و قیمت کو پہچانیں۔رمضان میں عشاء کے بعد کی نماز تراویح بھی دراصل تہجد ہی کی ایک نرم اور رعایتی صورت ہے۔اس کی شرکت گو آخر شب کی تہجد کا درجہ تو نہیں رکھتی مگر لوگوں میں نفل نمازوں کا ذوق پیدا کرنے کے لئے بہت غنیمت ہے۔دوسری نفلی نماز ضحی کی نماز ہے جو صبح اور ظہر کی نمازوں کے درمیانی وقفہ میں پڑھی جاتی ہے تا کہ یہ لمبا وقفہ عبادت سے خالی نہ رہے۔یہ بھی ایک بہت بابرکت نفلی نماز ہے اور دوستوں کو رمضان میں ان دونوں نمازوں یعنی تہجد اور ضحی کا التزام رکھنا چاہئے۔رمضان میں قرآن کی تلاوت : رمضان کے مہینہ میں قرآن مجید کی تلاوت کی بھی خاص تاکید آئی ہے اور یہ تاکید ضروری تھی۔کیونکہ قطع نظر تلاوت کی دوسری برکات کے رمضان کا مہینہ قرآنی نزول کے آغاز کی یادگار ہے۔اور اس یاد گار کو قرآن کی تلاوت سے کسی طرح جدا نہیں کیا جا سکتا۔عام طور پر لوگ رمضان میں قرآن کا ایک دور ختم کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں مسنون طریق دو دور ختم کرنا ہے۔کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قرآن کا ایک دور ختم کیا کرتے تھے۔لیکن جب قرآن کا نزول مکمل ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری رمضان میں حضرت جبرائیل نے آپ کے ساتھ مل کر دو دور پورے کئے۔اور چونکہ ہمارے لئے بھی قرآن مکمل ہو چکا ہے اس لئے اپنے آقا کی سنت میں ہمارے لئے بھی رمضان میں قرآن مجید کے دو دور پورے کرنے مناسب ہیں اور زیادہ کے