مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 566 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 566

مضامین بشیر جلد سوم 566 دن ایک حجت ہوگا۔کہ جب اس نے اپنے ماحول سے نکل کر صداقت کو قبول کیا۔تو تم اپنے عیش وعشرت میں کیوں محو خواب رہے؟ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ خادم صاحب مرحوم کا وجود بھی جماعت کے ایک طبقہ کے لئے حجت ہے کہ جب خادم مرحوم نے اپنے ذاتی شوق اور ذاتی کوشش اور ذاتی جدوجہد کے ذریعہ دین کا پختہ علم حاصل کیا اور وکالت جیسے غافل رکھنے والے پیشہ میں مصروف ہونے کے باوجود دین کا پُر جوش خادم رہ کر زندگی گزاری تو تم کیوں اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے ؟ پس اے وکیلو اور اے ڈاکٹرو اور اسے تاجر و اور صناعو اور اے زمیندار و اوراے دوسرے پیشہ ورو! تم پر خادم مرحوم کی زندگی یقینا ایک حجت ہے کہ تم دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے بھی دین کا علم حاصل کر سکتے اور دین کی خدمت میں زندگی گزار سکتے ہو۔اسلام تم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ساری کی ساری جماعت دنیا کے کاروبار چھوڑ کر دین کی خدمت کے لئے کلیے وقف ہو جائے بلکہ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جماعت کا ایک حصہ تو پورے طور پر دین کی خدمت کے لئے وقف ہو۔(جیسا کہ فرمایا وَلْتَكُن مِنْكُمُ أُمَّةٌ ) اور دوسرا حصہ دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے اور جائز طریق پر اپنی اور اپنے اہل وعیال کی روزی کماتے ہوئے اپنے اوقات اور اپنے اموال اور اپنے جسم اور اپنے دل ودماغ کے قومی میں سے خدا اور اس کے رسول اور اس کے مسیح اور اس کے دین کا واجبی حق نکالے تا وہ دجال کی طرح اندھا نہ ہونے پائے بلکہ اس کی دونوں آنکھیں روشن ہوں اور اس کی زندگی میں دنیا یہ نظارہ دیکھے کہ دل بایار و دست با کار پس عزیز و اور دوستو! خادم مرحوم کی زندگی سے سبق سیکھوتا اس مرحوم نوجوان کی زندگی اور اس کی موت دونوں خدا کی رحمت سے حصہ پائے۔زندگی اس لئے کہ اس نے غیر معمولی حالات میں اپنی زندگی کو اسلام اور احمدیت کی خدمت میں لگایا اور اپنے آپ کو اس کا اہل بنایا۔اور موت اس لئے کہ اس کی وفات سے متاثر ہو کر تم نے اس کی زندگی سے خدمت دین کا سبق حاصل کیا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محررہ 9 دسمبر 1958ء) (ماہنامہ الفرقان خادم نمبر جنوری 1959ء)