مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 565 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 565

مضامین بشیر جلد سوم 565 منہ سے اس طرح نکلتا تھا جس طرح ٹکسال کی مشین سے سکے بن بن کر نکلتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے۔یہ سب کچھ درسی تعلیم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ محض ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کا نتیجہ تھا۔جس نے ان کو مذہبی مناظرین کی صف اول میں لاکھڑا کیا تھا اور اس پر ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ جب کسی قلمی یا لسانی جہاد کا بگل بجتا تھا تو وکالت کو الوداع اور ذاتی آرام و آسائش کو خیر باد کہنے کا منظر نظر آتا تھا۔اور خادم صاحب سب کچھ چھوڑ كر لبيك اللهم لبیک کہتے ہوئے آگے آجاتے تھے۔یہی وہ رضا کارانہ جذبہ تھا جس نے قرونِ اولیٰ میں اسلام کو سر بلند کیا۔اور یہی وہ رستہ ہے جس پر گامزن ہو کر احمدیت کے فرزند آج پھر دوبارہ اسلام کا سر اونچا کر سکتے ہیں اور انشاء اللہ یہ ہو کر رہے گا۔جیسا کہ خدائے عرش نے حضرت مسیح موعود کو الہام کیا کہ بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد یعنی خوشی کی چال چل کہ اب وہ وقت نزدیک ہے کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام لیواؤں کا پاؤں زمین کی پستی کی بجائے میناروں کی بلندی پر پڑے گا۔پس ہمارے نوجوانوں کو خادم صاحب مرحوم کی زندگی سے سبق لینا چاہئے۔انہوں نے دنیا کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اور وکالت کے فرائض ادا کرتے ہوئے محض اپنے ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کے نتیجہ میں وہ مقام حاصل کیا جو کئی پورے وقت کے مبلغوں کو بھی حاصل نہیں ہوتا۔انہوں نے اپنے دل میں خدمتِ دین کا بے پناہ جذبہ پیدا کیا۔مذہبی مباحثات کے علم میں کمال کو پہنچے اور بظاہر واقف زندگی ہونے کے بغیر عملاً اپنے اوقات کو خدمتِ اسلام اور خدمت احمدیت کے لئے وقف رکھا۔ایسے نمونے خدا کی طرف سے جماعت کے لئے حجت ہوا کرتے ہیں اور خدا یہ بتانا چاہتا ہے کہ جب تمہیں میں سے ایک نوجوان اپنی ذاتی کوشش اور ذاتی ولولہ کے نتیجہ میں یہ مقام حاصل کر سکتا ہے تو تم کیوں نہیں کر سکتے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کو حجتہ اللہ کے نام سے پکارا گیا ہے۔یعنی ”خدا کی طرف سے لوگوں پر ایک حجت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک ریاست کے نوابی خاندان کے نوجوان فرد کو جس کے لئے ہر قسم کے عیش و آسائش کے سامان مہیا تھے احمدیت کی صداقت کو اس زمانہ میں قبول کرنے کی توفیق دی جب چاروں طرف مخالفت کا زور تھا تو دوسرے صاحب دولت و ثروت خاندانوں کے لئے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کا احمدیت کو قبول کرنا قیامت کے