مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 536 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 536

مضامین بشیر جلد سوم 536 دنیائے نا پائیدار میں ان کی آخری ملاقات نہیں ہو سکی اور حضرت صاحب تیز سفر کرنے کے باوجود وفات سے چار پانچ گھنٹے کے بعد مری پہنچے۔حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومہ کا نکاح اکتوبر 1902 ء میں بمقام رڑ کی ہوا تھا۔جہاں ان کے والد محترم حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم جو قدیم صحابہ میں سے تھے ان ایام میں متعین تھے۔اس تقریب میں حضرت خلیفہ اول بھی شامل ہوئے۔اگلے سال یعنی اکتوبر 1903ء میں بمقام آگرا آپ کا رخصتا نہ ہوا۔(الفضل کی یہ رپورٹ کہ شادی 1905ء میں ہوئی تھی بعد کی تحقیق سے درست ثابت نہیں ہوئی ) اس طرح حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ مرحومہ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے ساتھ قریباً پچپن چھپن سال گزارے جو خدا کے فضل سے ایک بہت غیر معمولی زمانہ ہے۔اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت کا بھی ایک لمبا عرصہ میسر آ گیا۔اور پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے اولاد بھی دوسروں کی نسبت زیادہ عطا کی۔جن میں سے اس وقت خدا کے فضل سے سات لڑکے اور دولڑ کیاں زندہ موجود ہیں۔ان میں سب سے بڑے عزیزم مرزا ناصر احمد سلمہ ہیں اور سب سے چھوٹا عزیز مرزا رفیق احمد ہے جو ابھی تک زیر تعلیم اور قابل شادی ہے اور سیدہ مرحومہ کو بہت عزیز تھا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور ان کے زخمی دلوں میں اپنی جناب سے مرہم کا چھا یہ رکھے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ نہایت ملنسار، سب کے ساتھ بڑی محبت اور کشادہ پیشانی سے ملنے والی اور حقیقتاً حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے گھر کی رونق تھیں۔اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جماعت کی مستورات کا گویا وہی مرکز تھیں۔کیونکہ عمر میں بھی وہ ہمارے خاندان کی سب خواتین میں بڑی تھیں اور طبیعت کے لحاظ سے بھی اس امتیاز کی اہل تھیں۔بیشک ہماری بڑی ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کو بھی یہ وصف نمایاں طور پر حاصل ہے مگر وہ لاہور میں رک جانے اور بعض الجھنوں میں پھنس جانے کی وجہ سے ربوہ کی مرکزیت میں عملاً حصہ دار نہیں بن سکیں۔اس لئے عملاً یہ فرض سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کے ذمہ ہی رہا۔لہذا ان کی وفات نے وقتی طور پر یقینا ایک خلا سا پیدا کر دیا ہے جسے دور کرنے والا خدا ہی ہے۔سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ نے بہت بے شر طبیعت پائی تھی۔ان کے وجود سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی اور ان کا وجود ساری عمر اس نوع کی معصومیت کا مرکز بنا رہا۔نیکی اور تقوی میں بھی مرحومہ کا مقام بہت بلند تھا۔غالبا یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ کو جو جیب خرچ حضرت خلیفہ اسح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی طرف سے ملتا تھا اسے وہ سب کا سب چندہ میں دے دیتی تھیں اور اولین موصوں میں