مضامین بشیر (جلد 3) — Page 516
مضامین بشیر جلد سوم 516 کمزوری کے زمانہ میں اپنے پروں کے نیچے رکھ کر پالا تھا اسی طرح ان کے بڑھاپے میں تم انہیں اپنے پروں کے نیچے رکھو۔(9) مردوں کے لئے یہ خاص حکم ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لاهله (سنن ابن ماجہ کتاب النکاح) یعنی تم میں سے خدا کے نزدیک بہترین وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرنے میں بہتر ہے۔اور عورتوں کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کی پوری طرح و فادار ر اور خدمت گزار ر ہیں۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم دیتا کہ بیوی خاوند کو سجدہ کرے۔یہ معمولی باتیں نہیں بلکہ سماجی بہبود اور خانگی امن کے لئے گویا ریڑھ کی ہڈی ہیں۔(10) ہمسائیوں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی اسلام میں خاص حکم ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے جبریل علیہ السلام نے ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی اس طرح بار بار تاکید کی ہے کہ مجھے گمان گزرا کہ شاید ہمسایہ کو انسان کا وارث ہی بنا دیا جائے گا۔دراصل انسان کے اخلاق کا حقیقی ثبوت اس سلوک سے ملتا ہے جو وہ اپنے ہمسائیوں کے ساتھ کرتا ہے اور لازماً ہمسائیوں کے ساتھ بدسلوکی ایک بہت بڑی بدی ہے۔(11) جماعتی انتظام کے ماتحت اپنے مقامی امیروں کے ساتھ عدم تعاون اور تفرقہ پیدا کرنے کی عادت بھی بڑی نا پاک بدیوں میں سے ہے۔جو نہ صرف جماعتی تنظیم کو تباہ کرنے والی بلکہ جماعت کو بدنام کرنے والی اور جماعتی رعب کو مٹانے والی اور جماعت کو اتحاد کی برکتوں سے محروم کرنے والی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اتنی تاکید فرمائی ہے کہ بار ہا فرماتے تھے کہ اگر تمہارے خیال میں اگر تمہارا کوئی امیر اپنا حق تو تم سے چھینتا ہے مگر تمہاراحق تمہیں دینے کو تیار نہیں تو پھر بھی تم اس کی اطاعت کرو اور اپنے حق کے لئے خدا کی طرف دیکھو۔نیز فرماتے تھے مَنْ شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ) (المستدرک علی الصحیں کتاب العلم باب و نتھم یحی بن ابی المطاع القرشی) یعنی جو شخص جماعت میں تفرقہ پیدا کرتا ہے وہ آگ میں ڈالا جائے گا۔(12) اس زمانہ میں تمباکو نوشی بھی ایک عالمگیر کمزوری بن گئی ہے۔اور غالبا ہماری جماعت میں بھی کافی پائی جاتی ہے۔اس مرض میں منہ کی بدبو اور روپے کے نقصان اور وقت کے ضیاع اور سرطان یعنی کینسر وغیرہ کی امراض کو دعوت دینے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔بعض کرسی نشین فلسفی اس سے طبیعت کا وقتی