مضامین بشیر (جلد 3) — Page 508
مضامین بشیر جلد سوم 508 زبانیں اس کے ذکر سے تر ہو جائیں۔اللهم صل على محمد و على آل محمد وبارك وسلم و يا ايها الذين آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(محررہ 18 مارچ 1958 ء ) (روز نامه الفضل ربوہ 21 مارچ 1958ء) 10 تاریخ اسلام کا عظیم ترین واقعہ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ اللہ تبارک و تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب وہ دنیا میں کوئی بڑا تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے تو اپنے کسی عظیم الشان مصلح کو مبعوث کر کے اس کے ذریعہ اصلاح وارشاد کا ایک بیج بوتا ہے۔اور پھر اس مصلح کے بعد اس کے خلفاء کے ذریعہ اس بیج کی پرورش کا انتظام کر کے اسے آہستہ آہستہ پودے سے پیڑ اور پیٹر سے درخت اور درخت سے عظیم الشان درخت بنا تا چلا جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے کہ جس وقت تک کہ اس کی تقدیر اپنے کمال کو پہنچ جائے۔اور اس روحانی مصلح کی جو اس سلسلہ کا بانی ہوتا ہے بعثت کی انتہائی غرض و غایت پوری ہو جائے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو ایک جلالی شریعت کے حامل تھے اللہ تعالیٰ نے بہت سے روحانی مصلح مبعوث فرمائے۔حتی کہ یہ سلسلہ چودہ سو سال بعد حضرت عیسی علیہ السلام میں آکر اپنے کمال کو پہنچ گیا اور حضرت مسیح ناصری موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء قرار پائے۔چنانچہ حضرت عیسی کی بعثت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد اسرائیلی سلسلہ میں سب سے بڑا واقعہ تھا۔اس لئے قرآن مجید نے حضرت موسیٰ سے اتر کر جوشان حضرت عیسی کی بیان کی ہے وہ کسی اور اسرائیلی نبی کی بیان نہیں کی۔یہی صورت ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں مقدر تھی۔جنہیں خدا تعالیٰ نے دونوں سلسلوں کی باہمی مشابہت کے لحاظ سے نہ کہ درجہ کے لحاظ سے حضرت موسی کا مثیل قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً * شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً (المزمل: 16) یعنی اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک رسول مبعوث کیا ہے جو تم پر خدا کی طرف سے نگران ہے اسی کے مشابہ جس طرح کہ ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔