مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 495 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 495

مضامین بشیر جلد سوم 495 شناخت کرنے کے لئے اس بات پر غور کرنا کافی ہے کہ حضور نے اپنی خلافت کے آغاز میں جماعت کوکس کمزوری اور بے بسی کی حالت میں پایا اوراب وہ خدا کے فضل سے کس وسعت اور کس کثرت اور کس طاقت کو پہنچ چکی ہے۔پس اب جبکہ حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے اپنی طاقت میں طبعا کمی اور انحطاط محسوس فرماتے ہیں تو یہ انتہا درجہ کی بے وفائی ہوگی کہ جماعت جس نے حضور کے ہاتھ سے ہزار ہاشیریں قاشیں کھائی ہیں حضور کی عمر کے اس حصہ میں حضور کے لئے دعا کرنے اور حضور کے متعلق دردمند ہونے میں غفلت برتے۔پس اس سال کی تیسری اپیل میری یہ ہے کہ جماعت کے مخلصین حضرت خلیفہ امیج ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کے لئے دعا کرنے اور صدقہ و خیرات اور صوم وصلوٰۃ کے ذریعہ اس دعا کو تقویت دینے کی طرف بیش از پیش توجہ دیں۔جماعت کا حال اور جماعت کا مستقبل اس وقت خاص بلکہ خاص الخاص توجہ اور دعاؤں کا متقاضی ہے۔اور بدقسمت ہے وہ انسان جو اس نازک وقت کو غفلت میں گزار دے۔خدا کرے کہ ایسا نہ ہو اور خدا کرے کہ میری یہ درمندانہ اپیل ہمارے بھائیوں کے دلوں میں اثر پیدا کرے۔اور احمدی والدین اور احمدی صدر صاحبان اور احمدی امراء صاحبان سب یک جان ہو کر ایک طرف اصلاح وارشاد اور دوسری طرف دعاؤں میں لگ جائیں۔امِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِين وَآخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ نوٹ: یہ مضمون میں نے جنوری کے آغاز میں شروع کیا تھا مگر اعصابی تکلیف اور احساس بے چینی کی وجہ سے اسے جلد ختم نہیں کر سکا بلکہ آہستہ آہستہ لکھ کر اور اوپر تلے کئی دنوں کا ناغہ کر کے قریباً ایک ماہ میں آج ختم کیا ہے اور پھر بھی وہ میری خواہش کے مطابق مکمل نہیں ہوا۔حالانکہ صحت کے زمانہ میں ایسا مضمون قریباً ایک گھنٹہ میں لکھ لیا کرتا تھا۔لہذا اپنے لئے بھی دوستوں سے دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے آخر عمر تک یعنی: زاں پیشتر که بانگ برآید فلاں نماند خدمت دین کی توفیق دیتا ر ہے اور میری کمزوریوں کو معاف فرمائے اور انجام بخیر ہو۔(محررہ 5 فروری 1958ء) روزنامه الفضل ربوہ 8 فروری 1958ء)