مضامین بشیر (جلد 3) — Page 464
مضامین بشیر جلد سوم 464 جنتی رہائش گاہوں میں جاگزین ہو، جماعت کی صف دوم ان کی نیکی اور تقوی اور عبادت گزاری اور صداقت اور دیانت اور اتحاد اور تعاون اور جذبہ قربانی میں ان کی جگہ لینے کے لئے آگے آجائے۔اے کاش ایسا ہی ہو! مجھے یاد ہے کہ جب میں نے 1941ء میں منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی وفات پر ایک نوٹ لکھا تھا تو اس نوٹ کے عنوان میں یہ شعر درج کیا تھا کہ: ع یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا ہم مجو نالہ جرس کارواں رہے لیکن اب تو ڈرتا ہوں کہ شاید ہم میں سے کئی لوگ محو نالہ بھی نظر نہیں آتے۔اے اللہ! تو رحم کر اور ہمارے نو جوانوں میں وہ روح پھونک دے جو ہمیشہ تیرے پاک نبیوں اور رسولوں کے زمانہ میں ایک زبر دست انجن کا کام دیا کرتی ہے۔اور ہمیں صرف چلنے کی طاقت ہی نہ دے بلکہ پرواز کی قوت عطا کر۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ حضرت عرفانی اپنے آخری خط میں جو غالباً 29 نومبر کا لکھا ہوا ہے اور مجھے 5 دسمبر کوملا ، لکھتے ہیں کہ : آج عمر کا بانوے سال شروع ہوا، الحمد لله ( محرره 5 دسمبر 1957ء) روزنامه الفضل ربوہ 11 دسمبر 1957 ء) مرکزیت کے چار بنیادی ستون ہر جماعت یا قوم یا پارٹی جو اپنی اجتماعیت کو زندہ رکھنا چاہے اس کے لئے کسی نہ کسی نظریاتی با تنظیمی یا انسانی یا ارضی مرکز کا وجود ضروری ہوتا ہے۔چنانچہ اسی اصول کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے نظام عالم میں بھی مختلف قسم کے مرکز قائم کر رکھے ہیں۔مثلاً جسم انسانی کا مرکز دل یا دماغ ہے۔نظام شمسی کا مرکز سورج ہے اور نظام ارضی کا مرکز زمین ہے جو اپنے تابع سیاروں کو اپنے ساتھ لے کر کسی بڑے مرکز کے ارد گرد چکر لگا رہی ہے۔اور اسی طرح ہر نظام میں کوئی نہ کوئی مرکز مقرر کیا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے الہبی جماعتوں کے لئے حبل اللہ کومرکز قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً یعنی اے مسلمانو! خدا نے تمہیں صحیح نظریات پر متحد رکھنے اور انتشار سے بچانے کے لئے آسمان سے ایک رہتی نازل فرمائی ہے