مضامین بشیر (جلد 3) — Page 463
مضامین بشیر جلد سوم 463 غالبا حضرت مفتی صاحب سے بھی زیادہ پرانے تھے۔حق گوئی میں حضرت شیخ صاحب بہت دلیر اور صاف گو بلکہ بر ہنہ تلوار تھے۔چنانچہ جب شروع میں غیر مبائعین کا فتنہ اٹھا تو شیخ صاحب اس کے مقابلہ پر غیر معمولی جوش کے ساتھ پیش پیش تھے۔بلکہ بعض اوقات انہیں روکنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔غالبا یہ غیر مبائعین کے فتنہ کا ہی اثر تھا کہ عرفانی صاحب مرحوم اپنے ذوق کے مطابق اپنی اولاد کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ جب بھی جماعت میں کوئی اختلاف پیدا ہو تو تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت کا ساتھ دینا۔کیونکہ ان کے متعلق خدا کا وعدہ ہے اِنِّی مَعَكَ وَ مَعَ أَهْلِكَ۔یعنی میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔خدا کرے کہ ہم اس خدائی وعدہ کے اہل اور قدرشناس ثابت ہوں۔اس سال یعنی 1957ء میں جماعت کو کئی مخلصین کی وفات کا صدمہ پہنچا ہے۔چنانچہ سب سے پہلے جنوری میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب خدا کو پیارے ہوئے۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گویا اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔اور محبت کے رنگ میں اکثر ” ہمارے مفتی صاحب“ کہہ کر پکارتے تھے۔اس کے بعد فروری میں حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کی وفات جو گویا بالکل ابتدائی صحابہ میں سے نہیں تھے مگر پھر بھی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کافی صحبت پائی تھی۔اور وہ اپنی نیکی اور عبادت گزاری کی وجہ سے ان بزرگوں میں سے تھے جن کا دل گویا ہمیشہ مسجد میں لٹکا رہتا ہے۔پھر غالبا جون کے آخر میں حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب فوت ہوئے جو ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔اور ان کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ عین جوانی کے عالم میں سکھ مذہب کو ترک کر کے اسلام اور احمدیت کو قبول کیا۔پھر نیکی میں ایسی ترقی کی کہ صاحب کشف و رؤیا بن گئے۔اور اب سال کے آخر میں آکر حضرت عرفانی نے جماعت کو داغ جدائی دیا ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْها فان O وَّ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ والإكرام (الرحمن : 27-28۔حضرت مفتی صاحب اور حضرت عرفانی صاحب دونوں میری پیدائش سے بھی پہلے کے احمدی تھے اور حضرت بھائی صاحب نے غالباً میری پیدائش کے ایک سال بعد بیعت کی تھی۔البتہ حضرت ڈاکٹر صاحب غالباً 1900 ء کے قریب بیعت سے مشرف ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب فوت ہونے والے بزرگوں کو اپنے فضل و رحمت کے دامن میں جگہ دے۔اور ان کی اولادکو ان کے نقش قدم پر چلائے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔آمین۔جیسا کہ سب جانتے ہیں اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور ممتاز صحابی بہت ہی تھوڑے رہ گئے ہیں۔موت تو سب کے لئے مقدر ہے مگر کاش قبل اس کے کہ یہ مبارک گروہ اس دنیا سے منتقل ہو کر اپنی