مضامین بشیر (جلد 3) — Page 458
مضامین بشیر جلد سوم 458 احمدیت کے نوجوان دین کے چڑھتے ہوئے ستارے ہیں جن کے ہاتھ میں آئندہ چل کر احمدیت کی ذمہ داریاں آنے والی ہیں۔اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور جد و جہد سے کام لیں تو اسلام میں شان و شوکت کا دوسرا دور جلد تر آ سکتا ہے بلکہ اس کا آنا مقدر ہے۔بشرطیکہ ہماری کوششوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دوسری جگہ فرماتے ہیں: ه بقضائے آسمانست ایس بہر حالت شود پیدا اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کے اندر جہاد کبر کی وہ روح پھونکے جو ہمیشہ کامیابی و کامرانی کی ٹھنڈی ہوائیں لے کر آتی ہے۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں تلوار کے جہاد کو جہادِ اصغر قرار دیا ہے وہاں نفس اور تبلیغ کے جہاد کو جہاد اکبر کے نام سے پکارا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے۔روزنامه الفضل ربوہ 26 ستمبر 1957ء) ماہنامہ خالد کے خاص نمبر کے لئے پیغام مجھے بتایا گیا ہے کہ اکتو بر میں رسالہ خالد کا خاص نمبر شائع ہورہا ہے۔قوموں کی ترقی میں نو جوانوں اور خواتین کا خاص حصہ ہوا کرتا ہے۔اگر کسی قوم کے یہ دو طبقے علمی اور اخلاقی اور روحانی لحاظ سے مسلسل ترقی کر رہے ہوں اور علم وعمل کے لحاظ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں تو ایسی قوم خدا کے فضل سے کبھی بھی تنزل کا منہ نہیں دیکھتی اور اس کا ہر قدم بالا سے بالا تر اُٹھتا چلا جاتا ہے۔پس میں جماعت کے نوجوانوں یعنی ا خدام الاحمدیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اپنے علم و عمل اور تقریر وتحریر اور تنظیم و تربیت کے ذریعہ آگے بڑھتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نو جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے کہ بکوشید اے جواناں تابدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا بلکہ حق یہ ہے کہ نو جوان کے لفظ سے دل کا نوجوان مراد ہے نہ کہ محض جسم کا نو جوان۔اگر کوئی شخص بظاہر نوجوانی کی عمر میں ہوتے ہوئے بوڑھوں کی طرح مضمحل اور کسل مند رہتا ہے تو وہ نو جوان ہوتے ہوئے بھی