مضامین بشیر (جلد 3) — Page 457
مضامین بشیر جلد سوم 457 بزرگوں کے گزرنے پر صف دوم کے نوجوان ان کی جگہ لے سکیں۔اور جماعت کی ترقی میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہو۔پس میں اس موقع پر بڑے دردمند دل کے ساتھ اپنے نوجوان عزیز وں کو تحریک کرتا اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صف اول کے خلاء کو پُر کرنے کے لئے اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کریں جو زندہ الہی جماعتوں کا طرہ امتیاز ہیں۔یعنی فرائض کے علاوہ نفلی عبادات پر بھی زور دیں۔ذکر الہی اور تسبیح وتحمید میں شغف پیدا کریں اور اپنے دلوں میں تقویٰ کا درخت لگا کر اپنے قلوب کے دامن کو خدا کی رحمت کے ساتھ وابستہ کر دیں۔حتی کہ الہی رحمت جوش میں آکر انہیں اپنے انوار کا مہبط بنالے۔مجھے خوشی ہے کہ کچھ عرصہ سے کافی نوجوانوں میں اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔مگر ابھی تک احمدیت کی صف دوم اتنی بیدار نہیں ہوئی کہ وہ صف اول کی جگہ لے سکے۔اور ان کا وجود بھٹکتی روحوں کے لئے شمع ہدایت اور سہارے کا کام دے۔پس نو جوانوں کو چاہئے کہ ضرور اس طرف خاص توجہ دیں۔کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کا ہر پچھلا قدم ہر پہلے قدم سے آگے نہ بڑھے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(محررہ 10 جولائی 1957 ء) روزنامه الفضل ربوہ 13 جولائی 1957ء) مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے سالانہ اجتماع پر پیغام مرقومه مورخه 57-8-20 آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے سالانہ اجتماع کے لئے میرا پیغام مانگا ہے۔اس وقت میرے خیال میں اس سے بہتر کوئی پیغام نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر میں بیان ہوا ہے کہ: بکوشید اے جواناں تابدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا یعنی اے احمدیت کے نوجوانو! کوشش کرو اور اپنی انتہائی جد و جہد سے کام لو تا کہ دین اسلام میں یہ قوت پیدا ہو جائے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ ملت میں نئے سرے سے بہار اور رونق کا دور آ جائے۔پس میرے خیال میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے لئے اس وقت اس سے بہتر اور کوئی پیغام نہیں۔