مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 448 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 448

مضامین بشیر جلد سوم 448 گے۔۔۔اور پھر ان کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور پھر اولاد کی اولا د مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی۔مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب سب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نا امید اور بدن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے۔تذكرة الشهادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67) (2) اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66-67) (3) خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا۔اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا۔اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی۔اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔(تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 سفحہ 409) (4) خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔سواے سننے والو ان باتوں کو یا درکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 سفحہ 409-410) اور پھر ان ساری باتوں کے نتیجہ میں مشرق و مغرب کے عظیم الشان انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحر ذخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بل بیچ کھا تا مغرب سے