مضامین بشیر (جلد 3) — Page 420
مضامین بشیر جلد سوم 420 ہوا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے خطبہ میں جماعت کو تحریک فرمائی تھی ( اور میں نے بھی حضور کی اتباع میں الفضل میں ایک مضمون لکھا تھا ) کہ نوجوان احمدی، عبادت اور نوافل اور دعاؤں اور ذکر الہی میں شغف پیدا کر کے جماعت کے روحانی مقام کو بلند رکھنے کی طرف توجہ دیں تا، مرنے والے بزرگوں کی طرح خدا تعالیٰ انہیں بھی اپنے فضل و رحمت سے رویا صالحہ اور کشف اور الہام سے نوازے اور جماعت میں خدا تعالیٰ کے زندہ اور تازہ بتازہ نشانات کا سلسلہ قائم رہے۔گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کرام کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نشانات اب بھی زندہ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آیات کو تو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہے۔لیکن اگر جماعت کے افراد میں بھی ان روحانی چھینٹوں کا سلسلہ جاری رہے تو یہ گویا سونے پر سوہاگہ ہے۔اور مجھے خوشی ہے کہ کچھ عرصہ سے جماعت کا نوجوان طبقہ عبادت اور ذکر الہی کی طرف زیادہ توجہ دے رہا ہے اور ان میں سے بعض کشف والہام سے بھی مشرف ہیں۔مگر میں ان سے کہتا ہوں کہ : ع جنس بالا کن که ارزانی ہنوز جماعت احمد یہ ایک خدائی جماعت ہے اور گوا سے اسلام اور احمدیت کی خدمت اور جماعتی ترقی کے لئے ظاہری اسباب کی طرف بھی ہمیشہ خاص توجہ دیتے رہنا چاہیئے لیکن اس کی ترقی کا اصل راز روحانی وسائل میں ہے۔اور جماعت کے نوجوانوں کو ان وسائل کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔اور روحانی وسائل میں زیادہ قابل توجہ یہ وسائل ہیں : (1) نمازوں کو دل لگا کر اور سنوار کر پڑھنا اور یہ تصور قائم کرنا کہ اس وقت میں خدا کے سامنے ہوں اور خدا میرے سامنے ہے۔(2) نماز تہجد اور دیگر نوافل کی پابندی۔نماز تہجد تو وہ نعمت ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے کہ اس کے ذریعہ ہر شخص کے لئے اس کے ذوقی مقام محمود کا رستہ کھلتا ہے۔(3) دعاؤں میں شغف اور دعا میں بھی ایسی کہ گویا ہنڈیا اہلنے لگے۔(4) ذکر الہی جن میں کلمہ طیبہ اور درود شریف اور سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ العظيم اور استغفار سب سے بلند مرتبہ ہیں۔ان کے علاوہ میرے ذاتی تجربہ میں یا حَیی يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْتُ اور لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ بھی بہت اعلیٰ درجہ کے اذکار ہیں۔