مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 411 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 411

مضامین بشیر جلد سوم 411 کوٹنے کے ہیں۔اس طرح معادَ سے مراد جماعتی مرکز ہے کیونکہ جماعت کے افراد اس کی طرف بار بارلوٹ کر آتے ہیں۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی معاد کا ترجمہ قادیان ہی کیا ہے۔(دیکھو تذکرہ صفحہ 257) یہ تو وہ الہام ہے جو میں نے اپنے سابقہ نوٹ میں شائع کیا تھا مگر اس کے ساتھ ایک اور الہام بھی ہے جو اسی الہام کا حصہ ہے اور اسی کے ساتھ شامل ہو کر نازل ہوا تھا۔مگر وہ میرے سابقہ نوٹ میں درج ہونے سے رہ گیا تھا۔چنانچہ اب یہ الہام ذیل میں درج کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اصل الہام کا گویا تمہ ہے اور اسی کے بعض پہلوؤں کی تشریح ہے۔اس الہام کے الفاظ یہ ہیں۔مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 256-257) اس الہام میں متنافس کا لفظ قابل غور ہے۔اس سے عربی زبان میں ایسا شخص مراد ہوتا ہے جو کسی چیز کی شدید خواہش کے نتیجہ میں دوسروں کے ساتھ جھگڑا کرے۔اس طرح اس لطیف الہام میں گویا اس قضیہ کا حقیقی باعث اور اس کا آخری نتیجہ، دونوں کے متعلق عجیب و غریب رنگ میں اشارہ کر دیا گیا۔اور شخص متنافس کے لفظ میں بھی اشارہ واضح ہے جس کی تصریح کی ضرورت نہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ اوپر کے دونوں الہاموں کو بیک وقت سامنے رکھ کر غور کریں اور دعاؤں میں لگے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دوسرا الہام جو میں نے اپنے سابقہ نوٹ میں درج کیا تھا یہ ہے: غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَ هُمُ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 417) یعنی رومی لوگ قریب کے علاقہ میں دوسروں کے مقابل پر مغلوب ہو جائیں گے لیکن مغلوب ہونے کے بعد وہ جلد ہی غالب آجائیں گے۔میں اپنے سابقہ نوٹ میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک دوسرے واضح مکاشفہ کی بناء پر صراحت فرمائی تھی کہ اس الہام میں اذنَى الْأَرْضِ ( یعنی قریب کے علاقہ ) سے استعارة قادیان کا علاقہ مراد ہے۔( تذکرہ صفحہ 760-761) اور میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ جب اذنی الارض سے استعارہ قادیان کا علاقہ مراد ہے تو پھر لاز ماروم کے لفظ میں بھی استعارہ کے طور پر پاکستان مراد لیا جائے گا۔کیونکہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے قادیان کے علاقہ یعنی ضلع گورداسپور کے متعلق ہی پاکستان اور