مضامین بشیر (جلد 3) — Page 408
مضامین بشیر جلد سوم 408 إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ آتِيكَ بَغْتَةً- يَاتِيكَ نُصْرَتِي - تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 256-257) یعنی وہ خدا جس نے تجھ پر قرآن کی تبلیغ فرض کی ہے وہ تجھے ضرور معاد ( یعنی قادیان ) کی طرف واپس لے جائے گا۔میں (فرشتوں کی ) فوجوں کے ساتھ تیرے پاس اچانک آؤں گا اور میری نصرت تجھے پہنچے گی۔(3) تیسرا الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک قرآنی آیت کی صورت میں ہے یعنی: غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِى أَدْنَى الْأَرْضِ وَ هُمُ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 417) یعنی مقدر یوں ہے کہ رومی قریب کے علاقہ میں مغلوب ہو جائیں گے۔لیکن مغلوب ہونے کے بعد وہ جلد ہی پھر غالب آجائیں گے۔اس الہام میں اَدُنَى الْأَرْضِ سے قادیان کا علاقہ مراد ہے۔(4) چنانچہ اوپر والے الہام کے اخلاق کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل مکاشفہ کھولتا ہے۔حضور فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ: ایک شخص نے اذنى الأرض پر قرآن شریف رکھا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قادیان کا نام ہے۔(اور دوسرے حوالہ میں یہ ہے کہ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِى أَدْنَى الْأَرْضِ مِیں أَدْنَى الْأَرْضِ سے قادیان مراد ہے) تذکرہ نیا ایڈیشن صفحہ 670-671) (نوٹ: جب اسی الہام میں اَدْنَى الأَرْضِ یعنی قریب کی زمین کے الفاظ سے استعارہ قادیان کا علاقہ مراد ہے تو لازماً روم کے لفظ میں بھی استعارہ ہی مراد سمجھا جائے گا۔یعنی ایسی حکومت کا جو ایک جہت سے رومی حکومت سے نسبت رکھتی ہے اور وہ وہی ہے جسے اَدْنَى الأرض والے علاقہ کے معاملہ میں دوسری حکومت کے مقابلہ پر مغلوب ہونا پڑا تھا ) (5) پانچویں نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رؤیا ہے جسے میں اس جگہ من وعن درج کرتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ قادیان کی طرف آتا ہوں اور نہایت اندھیری ہے اور مشکل راہ ہے اور میں رَجُماً بِالْغَيْیب قدم مارتا جاتا ہوں اور ایک نبی ہاتھ مجھے کو دیتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ میں قادیان پہنچ گیا اور جو مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے وہ مجھ کو نظر آئی۔پھر میں سیدھی گلی میں جو کشمیریوں کی طرف سے