مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 373 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 373

مضامین بشیر جلد سوم 373 نشانوں سے محروم ہو کر صرف ایک قصہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے دعا حقیقی دعا ہونی چاہئے جس کے ساتھ دل کا انتہائی سوز و گداز شامل ہو اور اگر دل کی ہنڈیا نہیں ابلتی تو کم از کم دل سے دھواں تو اٹھے۔پس چاہئے کہ خدا کے دامن سے اس طرح چمٹے رہو کہ وہ ایک مہربان باپ کی طرح تمہاری جھولی بھرنے میں خوشی محسوس کرے۔مگر یا درکھو کہ دعا ایک یا دو یا تین وقت کی دعا کا نام نہیں۔بیشک خدا چاہے تو بندے کی پہلی پکار پر ہی اس کی جھولی بھر دے مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔بلکہ خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ بندے کے صبر اور استقامت کو بھی آزماتا ہے اور بعض اوقات لمبا سلسلہ دعاؤں کا چلنے کے بعد قبولیت کا وقت آتا ہے۔بلکہ بعض بزرگوں کے متعلق تو یہاں تک لکھا ہے کہ انہوں نے نہیں ہیں تمہیں تمہیں سال مسلسل دعا کی اور پھر کہیں جا کر ان کی دعا قبول ہوئی۔لیکن اس زمانہ کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے خدا نے إِذَا الْجَنَّةُ از لغت کے الفاظ فرمائے ہیں۔اس لئے شاید وہ اب لوگوں کو اتنا نہ آزمائے جتنا پچھلے لوگوں کو آزمایا گیا۔مگر کچھ نہ کچھ صبر اور استقامت کا نمونہ تو بہر حال دکھانا ہوگا۔دعا کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے دعا کے معاملہ میں خدا کا سلوک اپنے بندوں کے ساتھ دوستانہ رنگ کا ہوتا ہے۔کبھی وہ اپنے بندوں کی بات مان لیتا ہے اور کبھی اپنی بات منواتا ہے۔پس اگر خدا کسی دعا کورڈ کر دے تو اس پر دلگیر مت ہو اور صبر اور شکر سے کام لو اور یقین رکھو کہ اس میں تمہاری بہتری تھی۔دیکھو ایک بچہ بسا اوقات آگ کے خوبصورت اور روشن شعلوں کو دیکھ کر ان کی طرف شوق سے لپکتا ہے مگر ماں باپ اسے روک دیتے ہیں اور وہ ان کے روکنے پر روتا بھی ہے مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتے۔پس اگر کوئی دعا رد ہو جائے تو اس پر خدا سے تعلق نہ توڑو بلکہ اور زیادہ مضبوط کرو کیونکہ وہ مستقبل کی باتوں کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور وہ تمہاری بہتری کو تم سے زیادہ سمجھتا ہے۔اسی لئے ہمارے آقا فداہ نفسی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ سچے مومن کی ہر دعا قبول ہوتی ہے مگر اس کے قبول ہونے کی مختلف صورتیں ہیں۔یا تو خدا اپنے بندے کی دعا اسی صورت میں قبول فرمالیتا ہے جس صورت میں کہ وہ مانگی جاتی ہے اور یا اگر یہ دعا خدا کی کسی سنت یا مصلحت کے خلاف ہوتی ہے ، یا خود بندے کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تو وہ اسے ظاہری صورت میں قبول کرنے کی بجائے اس سے کوئی ایسی تلخ تقدیر جو اس پر آنے والی ہوتی ہے ٹال دیتا ہے اور یا پھر اس کے لئے آخرت میں کوئی نعمت مخصوص کر دیتا ہے۔گویا دعا تو ضرور قبول کرتا ہے مگر اس کی قبولیت کی صورت مختلف ہوسکتی ہے۔پس دعا کرنے والے کو کسی حالت میں بھی دلگیر یا مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ہمارا آقا ہر حال میں رحیم و کریم آقا ہے جس کی رحمت میں شک کرنا