مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 372 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 372

مضامین بشیر جلد سوم 372 دوسری چیز جو روحانیت کی جان کہلانے کی حق دار ہے وہ دعاؤں کی عادت اور دعاؤں میں شغف ہے۔یہ نیکی ایک طرح تو تقویٰ کا لازمی نتیجہ ہے کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ ایک متقی انسان دعاؤں کی طرف سے غافل رہے اور دوسری طرف یہ نیکی تقویٰ کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔گویا یہ نیکی تقوی کا سبب بھی ہے اور اس کا نتیجہ بھی۔اور حق یہ ہے کہ دعا اسلام کی جان ہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے انسان کا اس کے آسمانی آقا اور خالق و مالک کے ساتھ ذاتی تعلق قائم ہوتا ہے۔جس دین میں خدا کے ساتھ انسان کا ذاتی تعلق قائم نہیں ہوتا وہ دین ہرگز کوئی دین نہیں بلکہ محض ایک مُردہ لاش ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اور ہمارے پیارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں دعا پر بہت زور دیا ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (الغافر : 61) یعنی اے میرے بندو! اپنی ہر ضرورت مجھ سے مانگا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے : قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: 78) یعنی اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اگر تم مجھ سے دعا کے ذریعہ تعلق قائم نہیں کرو گے تو مجھے بھی تمہاری کوئی پروانہیں ہوگی۔مگر دعا سے مراد رسمی دعا نہیں بلکہ حقیقی در دوسوز کی دعا مراد ہے جس میں انسان کا دل گویا پگھل کر خدا کے دروازہ پر گر جائے۔چنانچہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ آپ اس در دوسوز کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا کوئی ہنڈیا اہل رہی ہے اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قو تیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 36) پھر فرمایا لیکن اکثر لوگ دعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دعا کے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچنے کے واسطے کس قدر توجہ اور محنت درکار ہے۔دراصل دعا کرنا ایک قسم کی موت کا اختیار کرنا ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 299-300) پس ہمارے احباب کو اور خصوصاً نو جوان عزیزوں کو دعاؤں کی عادت ڈالنی چاہئے۔اس کے بغیر خدا کے ساتھ ذاتی تعلق ہرگز قائم نہیں ہوسکتا اور دین محض ایک بے جان سی چیز بن کر رہ جاتا ہے اور خدا کے تازہ