مضامین بشیر (جلد 3) — Page 358
مضامین بشیر جلد سوم 358 نبھانے پڑتے ہیں۔یعنی اگر ایک طرف اسے ایک عبادت گزار اور خدا پرست انسان بننا ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ کسی کا بیٹا بھی ہوتا ہے اور کسی کا باپ بھی ہوتا ہے اور کسی کا بھائی بھی ہوتا ہے اور کسی کا خاوند بھی ہوتا ہے اور کسی کا دوست بھی ہوتا ہے اور کسی کا دشمن بھی ہوتا ہے اور کسی کا افسر بھی ہوتا ہے اور کسی کا ماتحت بھی ہوتا ہے اور کسی کا حاکم بھی ہوتا ہے اور کسی کا محکوم بھی ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ سارے رابطے (یعنی ایک طرف حقوق اللہ اور دوسری طرف حقوق العباد ) انسان کے لئے جہاں بے انتہا ترقی کا رستہ کھولتے ہیں وہاں اس کے لئے قدم قدم پر ٹھوکر کھانے کا خطرہ بھی پیش کرتے ہیں اور سورہ فلق اور سورۃ الناس انہی دو قسم کے امکانی خطرات کے لئے پناہ گاہوں کے طور پر رکھی گئی ہیں۔ان میں سے پہلی پناہ گاہ یعنی سورہ فلق حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے خطرات کے لئے ہے اور دوسری پناہ گاہ یعنی سورۃ الناس حقوق اللہ سے تعلق رکھتی ہے۔ترتیب کے لحاظ سے سورہ فلق کوسورۃ الناس سے پہلے رکھا گیا ہے۔کیونکہ دنیوی علائق اور مادی رابطے اکثر انسانوں کے لئے دنیا کی زندگی میں زیادہ قابل توجہ اور زیادہ پریشان کن ہوا کرتے ہیں۔دوسری طرف سورۃ الناس کو قرآن کے بالکل آخر میں رکھنا اس لئے ضروری تھا تا کہ قرآن پڑھنے والوں اور قرآنی علوم کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے آخری انتباہ کی گھنٹی دینی اور روحانی خطرات کے متعلق بجائی جائے کیونکہ آخری اور دائگی زندگی کے لحاظ سے یہی خطرات انسان کے لئے سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ نازک خطرات ہیں۔ایک اور اصولی فرق ان دو سورتوں میں یہ ہے کہ جہاں سورہ فلق میں جو دنیوی خطرات سے تعلق رکھتی ہے پناہ دینے والی ہستی کا صرف ایک صفت یعنی صفتِ رَبِّ الْفَلَقَ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور اس کے مقابل پر خطرات چار، گنائے ہیں۔یعنی شَرِّ مَا خَلَقَ اور شَرِّ غَاسِقٍ اور شَرِّ نَفَّاثَاتِ اور شَرِ ماسید۔وہاں سورۃ الناس میں جو دینی خطرات سے تعلق رکھتی ہے اس کے بالکل الٹ طریق اختیار کر کے پناہ دینے والی ہستی کی صفات تو تین بیان کی گئی ہیں یعنی رَبِّ النَّاسِ ، مَلِكِ النَّاسِ اور إِلَهِ النَّاسِ مگر خطرہ صرف الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کی واحد ہستی کے ذکر تک محدود رکھا گیا ہے۔یہ فرق دنیوی اور دینی خطرات کے ایک لطیف امتیاز کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور وہ یہ کہ گود نیوی علائق سے تعلق رکھنے والے خطرات کثیر التعداد ہیں اور ان میں تنوع بھی بہت زیادہ ہے مگر اس کے مقابل پناہ دینے والی ہستی بھی وہ جو رَبِّ الْفَلَق ہونے کی وجہ سے ان سب خطرات پر غالب اور فائق ہے۔جو ہر مخلوق کی خالق اور ہر نورسحر کامنبع اور ہر مشکل کی مشکل کشا اور پستی سے باہر نکالنے کی طاقت رکھتی ہے۔مگر دینی