مضامین بشیر (جلد 3) — Page 338
مضامین بشیر جلد سوم 338 ظاہر ہے کہ جہاں حضرت مسیح ناصری کے ایک حواری نے سرے سے اپنے آقا کی صداقت کا ہی انکار کر دیا تھا بلکہ ایک حقیر سی رقم لے کر اسے دشمنوں کے ہاتھوں میں گرفتار کرا دیا تھا اور ایک دوسرے مقرب حواری نے ابتلاء کی شدت کے وقت بیزاری کا اظہار کر دیا تھا وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حواریوں کی لغزش یا کمزوری در اصل خلافت کے انکار کی صورت میں تھی نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے انکار کی صورت میں۔اس تعلق میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ایک مامور من اللہ کے حواریوں کے متعلق ضروری نہیں ہوتا کہ وہ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی پارٹی پر مشتمل رہیں بلکہ وہ ایک مامور من اللہ کی ماموریت کے مختلف زمانوں میں مختلف ہو سکتے ہیں۔مثلاً ایک حواری کسی مامور کی زندگی میں فوت ہو جائے یا کسی وجہ سے لغزش کھا جائے یا کمزور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کوئی اور حواری پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ میرے علم کے مطابق یہ بات یقینی ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی زندگی میں اپنے بارہ حواری شمار کرتے تو حضرت مولوی صاحب کو بھی ان میں ضرور شامل فرماتے۔لیکن چونکہ اس وقت حضرت مولوی صاحب فوت ہو چکے تھے اس لئے حضور نے ان کی جگہ کسی اور مخلص کو اس فہرست میں شامل فرمالیا۔مگر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہر مامور من اللہ کو ضرور بارہ حواری ہی ملتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بارہ خاص صحابہ صرف حضرت مسیح ناصری کی مماثلت میں گنوائے تھے۔ورنہ اگر اس مخصوص مماثلت کے سوال کو الگ رکھ کر دیکھا جائے تو حضور کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح ناصری کی نسبت بہت زیادہ حواری عنایت کئے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حواریوں کا تو کوئی حد وحساب ہی نہیں۔آپ کے ہزاروں فدائی صحابیوں نے حضرت مسیح ناصری کے بارہ حواریوں سے بدرجہا بہتر اور بدرجہا افضل اور بدر جہا بہتر نمونہ دکھایا۔گو حواری کے لفظ کی صراحت کے ساتھ حدیث میں صرف حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا نام آتا ہے۔جنہیں آپ نے غزوہ خندق کے موقع پر اپنا حواری قرار دیا تھا اور اس وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے۔اللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلِّمُ ضمناً اس جگہ یہ ذکر بھی بے جانہ ہوگا کہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کسی مامور من اللہ کے زمانہ کے بعد ایمان لانے والے یا بعد میں پیدا ہونے والے مومن انفرادی لحاظ سے بھی اس کے حواریوں سے درجہ میں کم تر ہوں۔کیونکہ جیسا کہ قرآن مجید اصولی رنگ میں اشارہ فرماتا ہے اور اس اشارہ میں بعد میں آنے