مضامین بشیر (جلد 3) — Page 337
مضامین بشیر جلد سوم 337 (12) مفتی محمد صادق صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس روایت کے چند دن بعد میں نے حضور کی خدمت میں تحریراً عرض کیا کہ کیا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بارہ نام گنائے تھے یا کہ ویسے ہی حضرت مولوی صاحب کا نام اس فہرست میں نہیں آیا ؟ میرے اس استفسار پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ذیل کا تحریری جواب ارسال فرمایا جو میرے پاس اس وقت تک محفوظ ہے۔حضور کا جواب یہ تھا: مولوی عبد الکریم صاحب اس وقت فوت ہو چکے تھے ان کی وفات پر ہی حضرت مسیح موعود نے یہ بات کہی تھی کہ مولوی صاحب کی وفات بڑا حادثہ ہے گر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت ہے مخلص آدمی دے رکھے ہیں۔پھر فرمایا حضرت مسیح کی طرح ہمارے بھی حواری ہیں۔ہم (یعنی حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضرت ام المومنین) نے بعض اور نام لئے۔مگر آپ نے ان کی نسبت کہا درست ہے کہ وہ بہت مخلص ہیں مگر وہ اس گروہ میں شامل نہیں اوپر کے درج شدہ حواریوں میں سے باقی اسماء تو جماعت میں کافی معروف ہیں اور سلسلہ کے لٹریچر میں بھی ان کا نام کثرت سے آچکا ہے۔البتہ ممکن ہے کہ ہمارے بعض نوجوان سید امیر علی شاہ صاحب مرحوم کے نام سے واقف نہ ہوں۔سوان کے متعلق اس جگہ صرف اس قدر نوٹ کافی ہے کہ وہ حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹ کے بہنوئی تھے اور محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم احباب میں سے تھے اور بہت مخلص اور دلیر احمدی تھے۔جہاں تک مجھے علم ہے انہوں نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔وَاللهُ أَعْلَمُ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حواری ایک عربی لفظ ہے جس کے لفظی معنی پاک وصاف انسان کے ہیں جو نہ صرف خود پاک وصاف ہو بلکہ دوسروں کو پاک کرنے میں بھی لگا رہے اور اصطلاحاً یہ لفظ ایسے ہی اصحاب پر بولا جاتا ہے جو کسی نبی اور مامور من اللہ کے خاص الخاص انصار میں سے ہوں۔سونہایت خوش قسمت ہیں یہ اصحاب جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حواری ہونے کا مقام حاصل کیا۔باقی حضرت مسیح ناصری کے بعض حواریوں کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی حواری بھی لغزش کھا گیا یا کمزوری دکھائی تو ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہتے اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور وہی اس کے انجام کی حقیقت کو بہتر جانتا اور وہی اس کے متعلق آخری فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔لیکن اتنا فرق تو