مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 335 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 335

مضامین بشیر جلد سوم 335 کر نہ صرف اپنے ایمانوں میں روشنی اور جلا پیدا کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ غیر از جماعت احباب میں بھی ان کی اشاعت کر کے انہیں ان روحانی خزائن سے متمتع ہونے کا موقع دیں گے۔جن کا اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ دروازہ کھولا گیا ہے۔دوسری طرف میں ان کتابوں کے مصنفین سے بھی توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی کتابوں میں صرف صحیح روایات اور بچے اور ثابت شدہ واقعات درج کرنے کی کوشش کریں گے اور کچی اور سنی سنائی باتوں سے اجتناب رکھیں گے۔تا کہ ان کی کتابیں ان برکات سے متمتع ہوں جو خدا کی طرف سے ہمیشہ صداقت کے ساتھ وابستہ رہی ہیں۔(محرره 6 فروری 1956ء) روزنامه الفضل ربوہ 9 فروری 1956ء) دوستوں کی خدمت میں دعاؤں اور صدقہ و خیرات کی تحریک آج کل بعض دوستوں کی طرف سے کچھ متوحش خوابوں کی اطلاع پہنچ رہی ہے اور گوایسی خوابوں کے متعلق یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ ہر صورت اٹل اور مبرم ہی ثابت ہوں۔کیونکہ قرآنی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے امر پر بھی غالب ہے اور اپنی تقدیروں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اور خوابوں کی تعبیر میں غلطی بھی ہو سکتی ہے۔لیکن بہر حال سنت نبوی کے مطابق ایسے موقع پر یہ ضروری ہے کہ دوست زیادہ سے زیادہ دعاؤں کی طرف توجہ دیں اور جماعت کی ترقی اور اسلام کی سربلندی اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور درازی عمر کے لئے خصوصیت سے دعائیں کرنے کے علاوہ حسب توفیق صدقہ اور خیرات بھی کریں۔کیونکہ ایک تو صدقہ و خیرات خدا کو راضی کرنے اور مصیبتوں اور تلخ نقد بیروں کو ٹالنے کا ایک مؤثر اور تجربہ شدہ روحانی ذریعہ ہے اور دوسرے صدقہ وخیرات کے نتیجہ میں جو دعا ئیں غرباء اور مساکین اور یتامیٰ اور بیوگان اور دوسرے مصیبت زدگان کے دلوں سے نکلتی ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے حضور بڑ اوزن رکھتی ہیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ ان ایام میں خصوصیت سے دعائیں بھی کریں اور جن دوستوں کو تو فیق ہو وہ صدقہ و خیرات میں بھی حصہ لیں۔تا اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں جماعت کے لئے کوئی امتحان کا وقت آنے والا ہے تو وہ اس کے فضل و کرم سے مل جائے یا جماعت کو اسے کامیابی اور صبر وثبات کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔اور اللہ تعالیٰ ہر رنگ میں اپنے قائم کردہ سلسلہ اور حضرت