مضامین بشیر (جلد 3) — Page 290
مضامین بشیر جلد سوم 290 نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی محلہ میں اور خصوصاً کسی مسجد یا درسگاہ کے قریب کوئی سینما بننے لگتا ہے تو خود سینما کے شوقین بے چین ہو کر شور کرنے لگ جاتے ہیں کہ اس کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔کیونکہ ان کے دل گواہی دیتے ہیں اور ان کا ضمیر پکارتا ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں۔کم از کم ہماری اولا د تو اس گند سے محفوظ رہے۔(2) سینما کی حرمت یا ممنوعیت کی دوسری وجہ اکثر فلموں کا کلی طور پر خلاف اخلاق اور گندا ہونا ہے۔فلموں میں قریباً بر ہنہ یا نیم برہنہ خوبصورت عورتوں کا ناز و ادا کے رنگ میں فلمی پردہ پر ظاہر ہونا۔عشق و محبت اور بوس و کنار کے عریاں اور حیا سوز مظاہرے، اغوا کے واقعات کی کثرت۔جائز خاوندوں سے غداری اور خفیہ دوستوں سے ساز باز کے مناظر قبل اور ڈا کہ اور نقب زنی اور چوری اور دھوکہ دہی اور فریب اور لوٹ مار کے نظارے وغیرہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں شاید یورپ و امریکہ کے مادہ پرست لوگ تو بُرا نہ سمجھتے ہوں (گوحقیقتا یہ چیزیں ان کے لئے بھی زہر سے کم نہیں ) مگر اسلامی ممالک میں رہنے والوں اور اسلامی تہذیب و تمدن رکھنے والوں کے لئے تو وہ ایک انتہا درجہ کاسم قاتل ہیں اور خام طبیعتوں کے لئے تو اس زہر کا ایک قطرہ بھی اخلاق اور روحانیت کے جو ہر کو ختم کر دینے کے لئے کافی ہے اور بالواسطہ طور پر یہ بات كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبہ: 119) کے حکم ربانی کے بھی خلاف ہے کیونکہ سینما میں بھی ایک نوع کی معیت ہوتی ہے۔غالباً ہند و پاکستان کے وسیع خطہ میں نو خیز نو جوانوں یعنی مردوزن ہر دو کے خیالات کو بگاڑنے اور گندے راستہ پر ڈالنے میں جتنا حصہ سینما کی حیاسوز فلموں نے لیا ہے اور کسی چیز نے نہیں لیا۔انسان فطر تا نقال واقع ہوا ہے۔اور اپنے ماحول کے گندے اور حیا سوز نظاروں سے وہ بہت جلد متاثر ہو کر اسی رو میں بہنے لگتا ہے اور جب اس کے پاؤں ایک دفعہ اکھڑتے ہیں تو پھر الا ماشاء اللہ دوبارہ نہیں جمتے اور وہ گویا خواب خرگوش میں مبتلا ہو کر ہلاکت کے سمندر کی طرف جلد جلد بہتا چلا جاتا ہے۔کاش لوگ اس خطرہ کو سمجھیں۔(3) سینما کے منع کئے جانے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض فلمیں بے شک اپنی ذات میں تو مفید اور علمی رنگ رکھتی ہیں اور مختلف میدانوں کی نئی نئی ایجادوں کو عوام کے سامنے لانے میں بہت اچھا کام کر سکتی ہیں۔مگر بد قسمتی سے سینما کے ارباب حل و عقد پبلک مذاق کو دیکھتے ہوئے ان فلموں کے اندر بھی کچھ کچھ وقفہ پر عشق و محبت کے مناظر جوڑ دیتے ہیں۔تاکہ اصل فلم کی سنجیدگی کو یہ درمیانی نظارے ایک قسم کی رنگینی اور کشش دے دیں۔تجارت کے اصول کے ماتحت یہ طریق بے شک بہت کامیاب رہتا ہے۔مگر اس کا نتیجہ اس کے