مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 278 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 278

مضامین بشیر جلد سوم 278 شریعت کے نزول سے لامتناہی انعاموں کا دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے۔اب دیکھو یہ کتنی عظیم الشان ڈیوڑھی ہے جو سورہ فاتحہ کی صورت میں قرآن کو عطا کی گئی ہے۔گویا قرآن کا ایک نہایت مختصر مگر ہر جہت سے مکمل نقشہ تیار کر کے اس کے شروع میں لگا دیا گیا ہے اور غور کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ قرآن عظیم کی ساری آیات اس مختصر خاکے کی تشریح ہیں اور اصولی لحاظ سے قرآن مجید کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو سورہ فاتحہ کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر نہ سمجھا جا سکے۔قرآن میں یا تو خدائے ذوالجلال و ذوالجمال کی صفات کا بیان اور ان کی تشریح ہے یا وہ اس بے نظیر ہدایت کی تفصیل ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ( فدا نفسی) کے ذریعہ دنیا کو حاصل ہوئی۔اور یا وہ مُنْعَمُ عَلَيْهِ اور مَغْضُوبِ اور ضال کے حالات اور کوائف پر مشتمل ہے جو گزشتہ زمانوں میں ظاہر ہوئے یا آئندہ ظاہر ہوں گے۔فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔قرآن مجید کا عقبی دروازه قرآنی ڈیوڑھی کی اس مختصر اور اجمالی تشریح کے بعد اس عقبی دروازہ کے ذکر کا موقع آتا ہے جو قرآن مجید کے آخر میں نصب کیا گیا ہے تا قرآن کے مطالعہ سے فارغ ہونے والا انسان ایک طرف تو آخری یاد دہانی کے طور پر قرآنی تعلیم کا دوحرفی خلاصہ سنتا جائے اور دوسری طرف وہ اس مادی دنیا یعنی اس دار الابتلاء میں قدم رکھنے سے قبل ان خطرات سے آگاہ ہو کر متنبہ اور ہوشیار ہو جائے جو اسے دین یا دنیا کے میدان میں پیش آسکتے ہیں۔قرآن کی آخری تین سورتیں یعنی سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ الناس اس مقدس غرض کو پورا کرنے کے لئے قرآن کے آخر میں رکھی گئی ہیں۔یہ گویا سورہ فاتحہ کی ڈیوڑھی کے مقابلہ پر وہ عقبی دروازہ ہے جس میں سے ہر اس انسان کو جو قرآن کریم کا مکمل مطالعہ کرنا چاہے قرآن ختم کرنے سے پہلے لازما گزرنا پڑتا ہے۔سورۃ اخلاص قرآنی تو حید کا بہترین خلاصہ ہے ان تین سورتوں میں سب سے پہلے نمبر پر سورہ اخلاص رکھی گئی ہے۔جس میں قرآن مجید کی تعلیم کا دو حرفی خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔یہ دو حرفی خلاصہ توحید باری تعالے کے عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔جو گویا اسلامی تعلیمات کی جان ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مَن قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس شخص نے دل سے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کی حقیقت کو سمجھا وہ جنت میں جائے