مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 266 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 266

مضامین بشیر جلد سوم 266 خاوندوں کی طرف سے آتی ہے اور خاوند اپنی آمدنی پر چندہ پہلے ہی دے دیتے ہیں اس لئے عورتوں پر چندہ واجب نہیں ہے۔خدا کے سامنے ہر شخص اپنے اعمال کا جداگانہ حساب رکھتا ہے اور ہرشخص کو اپنی اپنی قبر میں جاتا ہے۔پس ہر شخص کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو خدمت دین میں بذات خود حصہ لینا چاہئے۔جہاں عورتوں کو ان کے خاوندوں کی طرف سے جیب خرچ ملتا ہے وہاں وہ اس جیب خرچ میں سے چندہ دیں (جیسا کہ وہ ذاتی وصیت کی صورت میں چندہ وصیت دیتی ہیں ) اور جن عورتوں کو کوئی معین جیب خرچ نہیں ملتا۔وہ اپنے ذاتی خرچ کا اندازہ کر کے چندہ دے دیا کریں۔بلکہ حق یہ ہے کہ تربیتی نقطہ نگاہ سے عورتوں میں خدمت دین کا براہ راست جذ به پیدا کرنا مردوں کی نسبت بھی زیادہ ضروری ہے۔کیونکہ ان کی گودوں میں قوم کے نو نہال پلتے ہیں اور اگر وہ دیندار اور خادم دین ہوں گی تو لازماً ان کی اولاد پر بھی ان کی اس نیکی کا اثر ہو گا۔بچپن میں اولاد پر ماں کا اثر باپ کی نسبت یقینا زیادہ ہوتا ہے۔(6) چھٹا اور سب سے زیادہ پختہ ذریعہ چندوں کی ترقی کا جماعت کی تربیت ہے۔اب جماعت پر وہ زمانہ ہے کہ جب براہ راست بیعت کرنے والے احمدیوں کے مقابل پرنسلی احمدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ظاہر ہے کہ نسلی بیعت میں بالعموم وہ طاقت نہیں ہوتی جو ایسی بیعت میں ہوتی ہے جو خودسوچ سمجھ کر علی وجہ البصیرت کی جائے۔براہ راست بیعت ایسے درخت کا حکم رکھتی ہے جو پیوند کے ذریعہ تیار ہوتا ہے۔لیکن نسلی احمدی تخمی درخت کے حکم میں ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ جس طرح پیوند کے ذریعہ تیار کیا ہوا پودا اصل درخت کی صفات کا ورثہ پاتا ہے۔اس طرح تخم سے تیار کیا ہوا پودا نہیں پاتا۔پس جب تک ہم اپنے بچوں اور اپنے نوجوانوں میں پیوندی پودے والا رنگ پیدا نہیں کریں گے اور ان کے دلوں میں ایمان کی براہ راست چنگاری روشن نہیں ہوگی۔یہ حصہ الا ما شاء اللہ ہمیشہ جماعت کی کمزوری کا موجب رہے گا۔اس لئے میں نے رامہ صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ جہاں اور سکیموں کی طرف توجہ دی جائے وہاں نظارت تعلیم و تربیت کے تعاون سے جماعت کی تربیت اور خصوصا نئی نسل کی تربیت کی طرف بھی خاص توجہ ہونی چاہیئے۔انفرادی اور اجتماعی تربیت قومی ترقی کا سب سے بڑا ستون ہے۔بلکہ اگر اسے قومی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا جائے تو بے جانہیں ہوگا اور تربیت کی ترقی کے نتیجہ میں لازماً چندوں میں بھی ترقی ہوگی۔کیونکہ تربیت ہی وہ چیز ہے جس سے قومی ضروریات کا احساس اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو اور ہمارے دلوں میں دین کی محبت پیدا کرے اور ہمیں صحیح معنوں میں خادمِ دین بنائے۔آمین