مضامین بشیر (جلد 3) — Page 265
مضامین بشیر جلد سوم 265 (1) ناظر بیت المال کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں اور ان کی تحریکوں کو دلی توجہ کے ساتھ سنیں اور ان پر عمل کریں اور اگر مقامی حالات کی وجہ سے کسی بات میں اختلاف رائے ہو تو مناسب طریق پر پیش کر کے فیصلہ کرا لیں۔نئے ناظر بیت المال سرکاری دفاتر میں برسوں اس لائن میں کام کر چکے ہیں اور نئے ولولہ کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھ رہے ہیں اور میرے علم میں مخلص اور محنتی اور سمجھدار کارکن ہیں۔اگر انہوں نے حسب توقع محنت اور سمجھ سے کام کیا اور جماعت نے ان کے ساتھ پوری طرح تعاون کیا تو خدا کے فضل سے بہت عمدہ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔(2) مقامی جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی جگہ اس بات کا تفصیلی جائزہ لیں۔کہ آیا ان کے حلقہ میں کوئی احمدی ایسا تو نہیں ہے جو حسب ہدایت سلسلہ با قاعدہ چندہ ادا نہ کرتا ہو۔یعنی اگر وہ موصی ہے تو اپنی وصیت کے مطابق چندہ نہ دے رہا ہو اور اگر غیر موصی ہے تو مقررہ ریٹ کے مطابق چندہ عام ادا نہ کر رہا ہو۔اگر جماعت میں کوئی نادہند ہو یا وہ چندہ تو دیتا ہو مگر مقررہ شرح کے مطابق نہ دیتا ہو تو اسے ہر رنگ میں اور پوری کوشش کے ساتھ پورا چندہ یا پورا حصہ وصیت ادا کرنے پر آمادہ کیا جائے اور اس کوشش کو یہاں تک کامیاب بنایا جائے کہ جماعت میں کوئی فرد نادہند نہ رہے۔احمدی ہو کر چندہ میں نادہند ہونا ایسا ہے کہ گویا کسی کا آدھا دھڑ مارا ہوا ہو۔(3) تجارت پیشہ اور زمیندار اصحاب اور صناعوں اور دیگر پیشہ ور لوگوں کے پیشوں کی خاص نگرانی کی جائے کہ وہ اپنی آمد کے مطابق صحیح صحیح چندہ ادا کرتے ہیں یا نہیں۔چندہ کے معاملہ میں زیادہ خرابی اسی حصہ میں واقع ہوتی ہے۔بعض لوگ اپنی آمدنی بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے کہ آپ لوگ بیعت کرتے ہوئے اقرار کر چکے ہیں کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔اس لئے آپ کا یہ سودا خدا کے ساتھ ہے۔اور خدا کے ساتھ سودا کر کے دھو کا کرنے والا بالآخر کبھی کامیاب اور با مراد نہیں ہوگا !! (4) جو نئے دوست جماعت میں داخل ہوتے ہیں انہیں شروع سے ہی چندوں کا عادی بنایا جائے۔یہ پالیسی درست نہیں ہے کہ نئے لوگوں کے ساتھ چندوں کے معاملہ میں نرمی کرنی چاہئے۔جو لوگ ایک دفعہ رعایت کے عادی ہو جائیں وہ پھر الا ماشاء اللہ ہمیشہ رعایت کے ہی طالب رہتے ہیں۔پس نئے دوستوں کو شروع میں ہی چندوں کا فلسفہ سمجھا کر اور مناسب رنگ میں تحریک کر کے چندوں کا عادی بنانا چاہئے۔(5) عورتوں سے بھی با قاعدہ چندہ وصول کیا جائے۔یہ خیال درست نہیں ہے کہ چونکہ عورتوں کی آمدنی