مضامین بشیر (جلد 3) — Page 247
مضامین بشیر جلد سوم 247 باقی رہا جماعت کا سوال سو علاقہ وارامراء اور صدر صاحبان کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقہ میں ناواقف اور دور افتادہ دوستوں کو اس قسم کے فتنوں کے متعلق باخبر اور ہوشیار رکھیں اور انہیں بتا دیں کہ یہ سب جھوٹا اور مفتریانہ پراپیگنڈا ہے جو بعض مخالفین کی طرف سے جماعت اور مرکز کے خلاف کیا جا رہا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ یہ پراپیگنڈا ان خدشات کی عملی تصدیق ہے جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے سفر پر جانے سے قبل جماعت پر ظاہر کر کے اسے متنبہ کیا تھا کہ امام کی غیر حاضری میں اس قسم کے فتنے اٹھ سکتے ہیں۔جماعت کو اس خطرہ کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ہماری جماعت خدا کے فضل سے اور حضرت افضل الرسل محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اخوت اور اتحاد اور راستی اور صداقت کے طریق پر قائم ہے اور ہر قسم کے فتنوں سے الگ رہ کر امن اور آشتی کے رنگ میں اسلام کی خدمت بجالانا چاہتی ہے اور یہی اس کا واحد مقصد و منتہا ہے۔پس ہمیں چاہئے کہ ہر قسم کی انتشار پیدا کرنے والی باتوں سے الگ رہ کر اپنی پوری توجہ اور پوری کوشش اور پوری طاقت کے ساتھ اس مرکزی نقطہ پر قائم رہیں جو خدائے علیم و قدیر نے ہمارے لئے مقرر فرمایا ہے اور جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے اس مقصد کے حصول کا طریق صبر وصلوۃ ہے۔صبر کے معنی ایک طرف دوسروں کے مظالم پر ضبط نفس سے کام لینا اور دوسری طرف نیکیوں پر مضبوطی کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہے اور صلوٰۃ کے معنی ایک طرف اپنی کوششوں کی کامیابی کے لئے خدا سے دردمندانہ دعائیں کرتے رہنا اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر آپ کی امت کی اصلاح اور بہبودی کی غرض سے درود بھیجنا ہے۔اور غور کیا جائے تو یہی وہ چارستون ہیں جن پر ایک مومن کے ایمان اور اس کی سعی و جہد کا انحصار ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ ان ایام میں خاص طور پر دعاؤں اور صدقہ وخیرات سے کام لیں۔اپنے اندر تقویٰ اور طہارت نفس پیدا کریں۔اپنے ہمسایوں اور ماحول کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک بلکہ غیر معمولی احسان سے پیش آئیں۔امن اور اتحاد اور تعاون باہمی کا کامل نمونہ دکھائیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جو ( دین حق ) اور احمدیت کی تعلیم کے خلاف اور موجودہ ملکی حالات میں حکومت کے لئے کسی جہت سے پریشانی کا باعث ہو۔وَ كَانَ اللَّهُ مَعَنَا وَ مَعَكُمْ أَجْمَعِيْنَ - ( محررہ 18 اپریل 1955ء) روزنامه الفضل ربوہ 21 اپریل 1955 ء )